اتر پردیش حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے دوران لاپروائی اور طویل عرصے تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک کی ہدایت پر 26 سرکاری ڈاکٹروں کو صوبائی طبی خدمات سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید 9 ڈاکٹروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ برطرف کیے گئے ڈاکٹروں میں تقریباً نصف درجن سرجن کے علاوہ گائناکولوجسٹ، ای این ٹی ماہر اور دیگر شعبوں کے ڈاکٹر شامل ہیں۔ ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کے طویل عرصے تک او پی ڈی سے غیر حاضر رہنے اور مریضوں کے علاج میں لاپروائی کی شکایات سامنے آنے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ نے ایسے معاملات کا جائزہ لیا۔ جانچ میں قصوروار پائے گئے ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کرنے کی محکمانہ کارروائی مکمل کی گئی، جس کے بعد 26 ڈاکٹروں کو خدمات سے برطرف کر دیا گیا۔ برطرف کیے گئے ڈاکٹر فیروزآباد، علی گڑھ، غازی پور، ہردوئی، مہوبا، بلند شہر، لکھنؤ، بلرام پور، متھرا، مرزا پور، جھانسی، بریلی، گورکھپور، سہارنپور، مرادآباد، چندولی، مین پوری، مئو، سلطان پور اور مظفر نگر کے مختلف سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں تعینات تھے۔
کئی اضلاع کے ڈاکٹروں پر گری کارروائی کی گاج
برطرف کیے گئے ڈاکٹروں میں فیروزآباد کے ڈاکٹر سوا دیش کمار، علی گڑھ کے ڈاکٹر ویریندر سنگھ، غازی پور کی ڈاکٹر سواتی وشوکرما، ہردوئی کے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر برجیش یادو، مہوبا کے ای این ٹی سرجن ڈاکٹر ایشان دکشت، لکھنؤ سول اسپتال کے ڈاکٹر منوج کمار چورسیا، بلرام پور کے ڈاکٹر اکشے لے لے اور متھرا کے ڈاکٹر راکیش فوجدار سمیت دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح مرزا پور کے ڈاکٹر نریندر کمار جیسوال، جھانسی کی ڈاکٹر نشا بندیلہ، غازی پور کے ڈاکٹر اچل سنگھ، بریلی کے ڈاکٹر ششانک ورما، گورکھپور کے ڈاکٹر وشال کمار سنگھ، سہارنپور کے ڈاکٹر اندر جیت سنگھ، مرادآباد کے ڈاکٹر محمد شباب خان اور ڈاکٹر مظفر علی، چندولی کے ڈاکٹر راجیش کمار سنگھ، مین پوری کے ڈاکٹر کرشن مراری دویدی، مئو کے ڈاکٹر تنویر فریدی، سلطان پور کے ڈاکٹر آشوتوش شکلا اور مظفر نگر کے ڈاکٹر کنور وکرم سمیت دیگر ڈاکٹروں کو بھی برطرف کیا گیا ہے۔
9 ڈاکٹروں کے خلاف محکمانہ کارروائی
نائب وزیر اعلیٰ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری صحت کو اٹاوہ کے ڈاکٹر شری نواس یادو، رام پور کے ڈاکٹر کے کے چہل، میرٹھ کی ڈاکٹر سنگیتا چوپڑا، بدایوں کے ڈاکٹر اودھیش راٹھور، بھدوہی کے ڈاکٹر سنتوش چک اور دھیرج پرکاش، بلرام پور کے ڈاکٹر سومت کمار اور گوتم بدھ نگر کے ڈاکٹر اروند ملک اور ڈاکٹر اسد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ برجیش پاٹھک نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی بنیادی ذمہ داری مریضوں کو بروقت، بہتر اور معیاری علاج فراہم کرنا ہے۔ طبی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری، او پی ڈی اور آئی پی ڈی خدمات کے ساتھ مریضوں کو فراہم کیے جانے والے علاج کی باقاعدہ نگرانی کی بھی ہدایت دی ہے۔ حکومت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران طویل عرصے سے غیر حاضر رہنے والے 40 سے زائد ڈاکٹروں کو پہلے ہی خدمات سے فارغ کیا جا چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…