قومی

India Toward Space: بھارت کے خلائی سفر میں فیصلہ کن موڑ، اسرو انسانی پرواز کے خواب کے قریب، کیا اسرو 2026 میں رقم کرپائے گا تاریخ؟

نئی دہلی: جیسے ہی سال 2025 اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) ایک ایسے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے جو بھارت کی خلائی تاریخ کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ 2026 کو بھارت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سات اہم مشنز، خصوصاً گگن یان سے جڑے تجربات، ملک کو انسانی خلائی پرواز کے خواب کے مزید قریب لے جائیں گے۔ اگر یہ مرحلہ کامیابی سے طے ہو جاتا ہے تو بھارت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو خود اپنے وسائل سے انسان کو خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2025 میں اسرو نے مسلسل پیش رفت کی۔ سیٹلائٹ لانچز، بنگلورو، احمد آباد اور ترواننت پورم میں تحقیقاتی مراکز کی سرگرمیاں اور نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کے ذریعے تجارتی شراکت داریوں کا استحکام اس سال کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ تاہم یہ تمام سرگرمیاں 2026 میں ایک بڑے قدم کی بنیاد بن رہی ہیں، جہاں اسرو کی رفتار معمول کی گونج سے نکل کر ایک طاقتور آواز میں تبدیل ہونے والی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی خلائی پروگرام کم خرچ مگر مؤثر انجینئرنگ اور روبوٹک مشنز کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ چندریان، منگل یان، ایسٹرو سیٹ اور آدتیہ-ایل1 جیسے مشنز نے بھارت کی سائنسی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر منوایا۔ مگر ایک بھارتی خلاباز کو مقامی راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجنا ہمیشہ اگلا بڑا ہدف رہا ہے، جسے گگن یان مشن کے ذریعے حاصل کیا جانا ہے۔ 2026 میں اسرو اپنے تمام بڑے لانچ وہیکلز، جن میں ایل وی ایم 3، پی ایس ایل وی، جی ایس ایل وی مارک ٹو اور ایس ایس ایل وی شامل ہیں، کے ذریعے سات مشنز انجام دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ این ایس آئی ایل کے تحت ایک تجارتی معاہدے میں بھارت کا سب سے طاقتور راکٹ ایل وی ایم 3 امریکی کمپنی اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے بلیوبرڈ-6 کمیونیکیشن سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچائے گا۔ ان مشنز میں کئی پروازیں گگن یان سے براہ راست جڑی ہوں گی، جو انسانی خلائی مشن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

عام ناظر کے لیے بغیر انسان کے لانچ شاید کم سنسنی خیز ہوں، مگر انسانی خلائی پرواز سے پہلے یہ مرحلے انتہائی ضروری ہیں۔ اسرو کو سب سے پہلے ایل وی ایم 3 کو مکمل طور پر “ہیومن ریٹڈ” ثابت کرنا ہوگا، یعنی یہ راکٹ سخت ترین حفاظتی معیار پر پورا اترتا ہو۔ اس کے بعد بغیر عملے کے کئی آزمائشی مشنز کے ذریعے مدار میں خلائی جہاز کی کارکردگی کو جانچا جائے گا۔ اس عمل میں کریو اسکیپ سسٹم کی آزمائش نہایت اہم ہے۔ پیڈ ایبورٹ اور بلندی پر ایبورٹ جیسے تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا جائے گا کہ کسی بھی خرابی کی صورت میں گگن یاتریوں کو محفوظ طریقے سے راکٹ سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی کنٹرول اور لائف سپورٹ سسٹم کو اس قابل ہونا ہوگا کہ خلا میں انسانی زندگی کے لیے موزوں ماحول برقرار رکھ سکے، اور واپسی پر کریو ماڈیول کو سمندر میں بحفاظت اتارا جا سکے۔

اسی سلسلے میں 2026 کے آغاز میں ایل وی ایم 3 کے ذریعے پہلا بغیر انسان کے گگن یان مشن لانچ کیا جائے گا، جس میں انسانی شکل کا روبوٹ “ویوم مترا” سوار ہوگا۔ یہ روبوٹ انسانی جسمانی افعال کی نقل کرے گا اور اس بات کی جانچ کرے گا کہ آکسیجن کا تناسب درست ہے یا نہیں، دباؤ اور درجہ حرارت مدار کے سخت حالات میں برقرار رہتے ہیں یا نہیں۔ اسرو کے روڈ میپ میں سب سے نازک مرحلہ واپسی یعنی ری انٹری کے تجربات ہوں گے۔ خلا سے زمین کی فضا میں داخل ہونا انسانی مشن کا سب سے خطرناک حصہ ہوتا ہے، جہاں خلائی جہاز کو انتہائی تیز رفتار اور شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بغیر انسان کے مشنز میں ہیٹ شیلڈز، پیراشوٹ سسٹم اور رفتار کم کرنے کے تمام مراحل کو مکمل طور پر آزمائش سے گزارا جائے گا۔ ان تجربات میں بھارتی بحریہ کی مدد سے بحیرہ بنگال میں ریکوری آپریشنز بھی شامل ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ جب روبوٹ سستے اور محفوظ ہیں تو انسان کو خلا میں بھیجنے پر اتنی سرمایہ کاری کیوں؟ اس کا جواب عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ اس وقت صرف روس، امریکہ اور چین کے پاس آزادانہ طور پر انسان کو خلا میں بھیجنے کی صلاحیت ہے۔ گگن یان کی کامیابی بھارت کو اس محدود کلب میں شامل کر دے گی، جو نہ صرف وقار بلکہ اعلیٰ صنعتی اور سائنسی مہارت کی علامت ہوگی۔ انسانی خلائی پرواز جدید مواد، ایویونکس، طبی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں مہارت کا ثبوت ہوتی ہے۔ اس کے اثرات عام زندگی تک پہنچتے ہیں، جیسا کہ پانی صاف کرنے کے نظام، آگ سے بچاؤ کے مواد اور صحت کی نگرانی کی ٹیکنالوجیز۔ آنے والی دہائیوں میں خلائی معیشت کو کھربوں ڈالر کی صنعت سمجھا جا رہا ہے۔ گگن یان کے ذریعے بھارت اس میدان میں محض مسافر نہیں بلکہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ 2026 کی لانچز بھارت کے نوجوانوں کے لیے بھی سائنس اور انجینئرنگ میں ایک نئی تحریک ثابت ہو سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

6 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

7 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

7 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

8 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago