قومی

Lucknow is Becoming Defence Capital: لکھنؤ اب بھارت کی دفاعی طاقت کی نئی علامت، سپرسونک براہموس میزائل طاقت کا عالمی مرکز بننے کی جانب ایک اور قدم

لکھنؤ: تہذیب، شاعری، نوابی روایات اور جدوجہد کی تاریخ رکھنے والا شہر لکھنؤ اب بھارت کی دفاعی طاقت کی نئی علامت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ گنگا کے پرسکون بہاؤ کے قریب، شہر کے مضافات میں قائم براہموس ایرو اسپیس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فسیلٹی ایک ایسی جدید دفاعی تنصیب ہے جو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر عسکری توازن کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کوئی عام فیکٹری نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں بھارت کے سب سے طاقتور روایتی ہتھیار، سپرسونک براہموس کروز میزائل کو تیار، اسمبل اور جانچا جا رہا ہے۔ یہ عظیم منصوبہ 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب اتر پردیش حکومت نے لکھنؤ۔کانپور ہائی وے کے کنارے 200 ایکڑ زمین اتر پردیش ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کے تحت فراہم کی۔ براہموس ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ، جو ڈی آر ڈی او اور روس کی این پی او ماشینوستروینیا کا مشترکہ ادارہ ہے، اس وقت اپنے حیدرآباد، ترواننت پورم، پلانی اور ناگپور کے یونٹس میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہو چکا تھا۔ بھارتی بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کی مسلسل مانگ کے ساتھ ساتھ براہموس میزائل کی برآمدات کے معاہدے بھی تیزی سے بڑھ رہے تھے۔

2024 میں فلپائن کو 375 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت پہلی براہموس بیٹری کی فراہمی ہو چکی تھی، جبکہ انڈونیشیا، ویتنام، ملائیشیا، ارجنٹینا، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت مختلف مراحل میں تھی۔ 2025 تک اگلے پانچ برسوں میں 800 سے زائد میزائلوں کے پختہ آرڈرز سامنے آ چکے تھے، جس کے بعد لکھنؤ میں اس وسیع اور جدید فسیلٹی کا قیام ناگزیر ہو گیا۔ تقریباً 380 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کیمپس ایک مکمل صنعتی شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں بڑے انٹیگریشن ہال، بوسٹر پروڈکشن بلاک، وارہیڈ فٹنگ یونٹ، سب سسٹم جانچ کے لیے ہائی اسپیڈ ٹریک اور ماحولیاتی طور پر کنٹرول شدہ معائنہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ براہموس کے تمام ورژنز، جن میں 290 کلومیٹر رینج والے میزائل، 600 کلومیٹر توسیعی رینج، اور زیرِ تیاری براہموس این جی شامل ہیں، اسی مرکز سے تیار ہوں گے۔

11 مئی کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ورچوئل طور پر اس فسیلٹی کا افتتاح کیا، جبکہ 18 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ڈی آر ڈی او کے چیئرمین سمیر وی کامت اور براہموس کے ڈی جی جئے تیرتھ آر جوشی کی موجودگی میں بھارتی مسلح افواج کے لیے پہلے میزائلوں کی کھیپ روانہ کی گئی۔ اس موقع کو دفاعی صنعت کے جغرافیے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا گیا، جہاں اب روایتی ساحلی یا صنعتی شہروں کے بجائے لکھنؤ جیسا شہر مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔

براہموس ایرو اسپیس کے مطابق، لکھنؤ یونٹ میں اس وقت 300 سے 500 افراد براہِ راست ملازمت کر رہے ہیں، تاہم اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ میزائل سازی کے لیے 200 سے زائد سرکاری و نجی ادارے مختلف پرزے اور ذیلی نظام فراہم کر رہے ہیں۔ کمپنی اب لکھنؤ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں مزید ایم ایس ایم ایز کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ سپلائی چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انسانی وسائل کے انتخاب میں خالص میرٹ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم، سخت تکنیکی جانچ، کئی مراحل پر مشتمل انٹرویوز اور سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی امیدواروں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ مقامی کوٹہ نہیں بلکہ قابلیت ہی اصل معیار ہے۔ مستقبل میں یہ فسیلٹی خاص طور پر براہموس این جی میزائل کی تیاری کا مرکز ہوگی، جو وزن میں ہلکا اور تعداد میں زیادہ نصب کیے جانے کے قابل ہوگا۔ اس سے بھارتی افواج کو کم لاگت میں زیادہ مؤثر دفاعی صلاحیت حاصل ہوگی۔ یوں لکھنؤ نہ صرف تاریخ کا امین رہے گا بلکہ بھارت کی سپرسانک طاقت کا گہوارہ بھی بنے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Shyamji Krishna Varma Jayanti: انگریزوں کی سرزمین پر آزادی کا بگل بجانے والے شیام جی کرشن ورما کو وزیر داخلہ امت شاہ نے پیش کیا خراج عقیدت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی شیام جی کرشن ورما…

43 minutes ago