قومی

CM Yogi Adityanath on SIR: ایس آئی آرٹھیک سے نہیں کرانے والے اراکین اسمبلی کونہیں ملے گا ٹکٹ، یوگی آدتیہ ناتھ نے دی سخت وارننگ

اترپردیش میں ایس آئی آر سے متعلق وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی مکمل طورپرسختی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح طورپرکہا ہے کہ ایس آئی آرکے حوالے سے لاپرواہی مہنگی پڑسکتی ہے۔ ایسا کرنے میں ناکامی آپ کے لیے خطرے کا اشارہ ہوسکتی ہے۔ اس کے نتائج اگلے 20 سال تک بھگتنا پڑے گا۔

لکھنؤ میں ایس آئی آرسے متعلق بی جے پی کی طرف سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارٹی کے سرکردہ لیڈران بشمول وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ریاستی صدرپنکج چودھری اور قومی جنرل سکریٹری اورمرکزی انچارج ترون چُگ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں، بی جے پی نے واضح طورپراشارہ دیا کہ جن سیٹوں پرایس آئی آرٹھیک سے نہیں ہوپائے گا، وہاں کے اراکین اسمبلی کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔

سی ایم یوگی نے ایس آئی آر سے متعلق دی وارننگ

اس میٹنگ میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سبھی وزرا، اراکین اسمبلی، ریاستی اوربوتھ سطح کے کارکنان کووارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپ ایس آئی آرٹھیک سے نہیں کرتے ہیں تو یہ آپ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔ کئی سیٹیں ایسی ہیں، جن پرہارجیت کا فرق چار سے پانچ ہزارسے بھی کم تھا۔ ایسے میں ذرا سی لاپرواہی سے ہم اپنی سیٹ گنوا سکتے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس ورکشاپ میں کچھ اسمبلی سیٹوں کا ذکربھی کیا اور کاٹے گئے ناموں کا ڈیٹا شیئرکیا۔ ساتھ ہی بتایا کہ لکھنوکینٹ اورشمالی لکھنو، آگرہ جنوب، ملکی پور، ہردوئی اورلکھیم پورسمیت تین درجن سے زیادہ سیٹوں پر20 فیصد سے زیادہ رائے دہندگان کے نام کاٹے گئے ہیں۔

پارٹی کارکنان کو دیئے گئے سخت احکامات

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حکم دیا کہ اپنے اپنے علاقوں میں جائیں اورجن کے بھی نام کاٹے گئے ہیں، ان کے نام لسٹ میں ڈلوائیں۔ ایک ایک کارکن گھرگھرجاکر اپنے سبھی رائے دہنگان کے نام ایس آئی آر میں ڈلوائیں، جو لوگ غیرحاضرہیں یا منتقل ہوچکے ہیں، ان کے نام جڑوانے پر توجہ مرکوزکریں اوراپوزیشن کے ذریعہ فرضی ناموں کے اندراج پرنظررکھیں اوراعتراض درج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ سے یہ کام نہیں ہوتا تو بتا دیں کہ ہمارے پاس کام کرنے والے اورلوگ بھی ہیں۔ انہوں نے ایسی سیٹوں پربھی تشویش ظاہرکی  ہے کہ جہاں بی جے پی کی روایتی سیٹیں رہی ہیں، لیکن وہاں سب سے زیادہ رائے دہندگان کے نام مردہ یا غیرحاضر کے زمرے میں درج ہوئے ہیں۔ جبکہ کئی مسلم اکثریتی سیٹیں ایسی ہیں، جہاں پرکم ووٹروں کے نام کٹے ہیں۔ اس ورکشاپ میں ریاستی صدر پنکج چودھری نے کہا کہ امتحان اورآزمائش کا وقت ہے، جس میں 100 فیصد نمبرلانے والا ہی پاس مانا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

12 minutes ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

50 minutes ago

Manisha Koirala’s Message for Women: ’’بدلتے جسم سے لڑنے کے بجائے اسے سمجھیں…‘‘، منیشا کوئرالا کا خواتین کو خاص پیغام

منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…

1 hour ago