قومی

India-Oman FTA: عمان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ برآمدی منڈیوں کی تنوع میں ثابت ہوگا مددگار

نئی دہلی: بھارت اور عمان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) نہ صرف دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو نئی جہت دے گا بلکہ بھارت کے لیے برآمدی منڈیوں کی تنوع میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت محنت پر مبنی برآمدات کے لیے بہتر مارکیٹ رسائی، خدمات کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت میں سہولت اور عمان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی ہے، جہاں تقریباً ساڑھے سات لاکھ بھارتی شہری مقیم ہیں اور سالانہ دو ارب ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجتے ہیں۔ عمان کی جغرافیائی حیثیت بھارت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے، جو ایک حساس جغرافیائی و سیاسی خطہ ہے۔ بھارت کی نصف سے زیادہ خام تیل کی درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں عمان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کو مستحکم کرنا بھارت کی توانائی سلامتی اور علاقائی مفادات کے لیے بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ ایک بڑے عالمی تناظر میں بھی اہم ہے، جہاں بھارت امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے متبادل برآمدی منڈیوں کی تلاش میں دنیا بھر میں آزاد تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی سے قیمت کے لحاظ سے حساس اور محنت پر مبنی برآمدات کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جو اگرچہ قدر کے لحاظ سے بہت بڑی نہیں ہوتیں، لیکن لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ اسی لیے عمان کے ساتھ ایف ٹی اے کی اہمیت صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں سمجھی جا رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق، بھارت اور عمان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم اشیاء میں تقریباً 10.6 ارب ڈالر اور خدمات میں 0.9 ارب ڈالر ہے۔ اشیاء کی تجارت میں عمان کو تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا سرپلس حاصل ہے، جبکہ خدمات میں بھارت کو تقریباً 0.5 ارب ڈالر کا فائدہ ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کی 98 فیصد برآمدات پر محصولات ختم کیے جا رہے ہیں، جو پہلے زیادہ تر پانچ فیصد کے قریب تھے۔ اس سے ٹیکسٹائل، ملبوسات، جوتے، قیمتی پتھر و زیورات، زرعی مصنوعات، برقی اور انجینئرنگ اشیاء کو خاص فائدہ متوقع ہے، جن میں ایم ایس ایم ایز کا غلبہ ہے۔ اس کے علاوہ دواسازی، طبی آلات اور آٹوموبائل شعبے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

فی الحال دو طرفہ تجارت میں پیٹرولیم مصنوعات کا غلبہ ہے۔ بھارت کی عمان کو برآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا حصہ 35 فیصد، پروسیسڈ معدنیات کا 9 فیصد اور باسمتی چاول کا تقریباً 4 فیصد ہے۔ اسی طرح بھارت کی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ بھارت نے بھی عمان کی تقریباً 78 فیصد ٹیرف لائنز پر محصولات کم کیے ہیں، جس سے کچھ پیٹروکیمیکل مصنوعات سستے داموں دستیاب ہو سکیں گی۔ معاہدے کا ایک اہم پہلو عمان کی جانب سے بھارتی خدمات پیشہ ور افراد کے لیے دروازے کھولنا ہے۔ کنٹریکچول سروس سپلائرز کے قیام کی مدت 90 دن سے بڑھا کر دو سال کر دی گئی ہے، جبکہ کارپوریٹ اسٹاف کے کوٹے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ طبی، ٹیکس اور اکاؤنٹنسی سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے داخلے میں نرمی کو بھی اس معاہدے کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Smit Machchhar airlifted to Abu Dhabi: دبئی-تل ابیب پرواز میں شریک پائلٹ کے حملے میں زخمی ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار بہتر علاج کے لیے ابوظبی منتقل

اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…

15 minutes ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

2 hours ago