بین الاقوامی

Nepal Unrest: نیپال میں تاریخ کے بدترین 48 گھنٹے، پی ایم اولی مستعفی، فوج کے ہاتھ میں کمان

نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ پیر 8 ستمبر سے شروع ہوا، جو منگل (9 ستمبر) کو بھی شدت کے ساتھ جاری رہا۔ مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، پارلیمنٹ ہاؤس اور کئی اہم سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ اس دوران پی ایم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اب فی الحال ملک کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں ہے اور عبوری حکومت کے لیے نئے چہروں کی تلاش جاری ہے۔

‘جنریشن زی’ کی قیادت میں طلبہ کا احتجاج

یہ احتجاج اصل میں طلبہ کی قیادت میں سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف شروع ہوا تھا۔ بعد میں یہ ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گیا، جس میں مبینہ کرپشن اور عوام سے حکومت کی بے رخی کے خلاف سخت ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ اولی حکومت اور سیاسی اشرافیہ پر عوامی غصہ پوری شدت سے پھوٹ پڑا۔

صدر رام چندر پوڈیل کی اپیل

پی ایم کے استعفیٰ کے باوجود ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں، کرفیو کی خلاف ورزی اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے دوران، صدر رام چندر پوڈیل نے عوام سے امن اور اتحاد کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا:”میں مظاہرہ کرنے والے شہریوں سمیت سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کی مشکل صورتحال کے پرامن حل کے لیے تعاون کریں۔”

نیپال کے تاریخ کے بدترین 48 گھنٹے

8 اور 9 ستمبر کو نیپال میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔ مظاہرین نے کئی وزیروں کو دوڑا دوڑا کر مارا، پارلیمنٹ ہاؤس کو آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ نیپال کی تین بڑی جیلوں سے قیدی فرار ہو گئے۔ کٹھمنڈو کی نکھو جیل سے مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ روی لامیچھانے کو بھی چھڑا لیا۔

سوشل میڈیا پر پابندی ہٹنے کے بعد بھی جاری رہے مظاہرے

نیپالی فوج نے بحران کے حل کے لیے امن و مکالمے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اگرچہ پیر کی رات ہٹا دی گئی تھی، لیکن منگل کو مظاہروں میں مزید شدت آ گئی۔ عوامی غصہ خاص طور پر پولیس کی کارروائی میں کم از کم 19 افراد کی ہلاکت، سیاسی اشرافیہ کے مبینہ کرپشن اور عیش و آرام کی زندگی کے خلاف شدید ردعمل کی شکل اختیار کر گیا۔

بھارت کی سرحد پر ہائی الرٹ

نیپال میں موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے وزیرِاعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے منگل کے روز تین سرحدی اضلاع  چمپاوت، پیتھوراگڑھ اور اُدھم سنگھ نگر کے انتظامی، پولیس، اور سشسترا سیما بل (SSB) کے افسران کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی گئی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں نیپال سے ملحق بین الاقوامی سرحدوں پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

14 minutes ago

Finance Minister Nirmala Sitharaman: ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟ کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کو کرے گی ختم ؟

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…

1 hour ago

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

1 hour ago