بین الاقوامی

Who is Mastermind Nikhil Gupta: کون ہے نکھل گپتا؟ خالصتانی شدت پسند پنو کو چاہتا تھا مارنا، امریکی عدالت میں اعترافِ جرم

امریکہ میں سرگرم خالصتانی شدت پسند گرپتونت سنگھ پنو کے قتل کی ناکام سازش کے معاملے میں ایک اور بڑا ڈرامائی موڑ سامنے آیا ہے۔ اس کیس کا مرکزی ملزم اور 54 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا (Nikhil Gupta) نے امریکی عدالت میں اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ جمعہ کے روز مین ہیٹن کی فیڈرل کورٹ میں پیش ہوئے گپتا نے جج سارہ نیٹ برن کے روبرو اعتراف کیا کہ انہوں نے پنو کے قتل کے لیے ایک ہٹ مین (سپاری کلر) کو رقم ادا کی تھی۔ عدالتی کارروائی کے دوران گپتا نے مبینہ سازش میں اپنی شمولیت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کا حصہ تھے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق یہ سازش امریکہ کی سرزمین پر انجام دی جانی تھی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔

یہ معاملہ نہ صرف قانونی اعتبار سے حساس ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق امریکہ میں مقیم ایک علیحدگی پسند لیڈر سے ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت میں سزا اور دیگر قانونی پہلوؤں پر مزید کارروائی متوقع ہے۔

40 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے

خالصتانی شدت پسند گُرپتونت سنگھ پنو کے قتل کی مبینہ سازش کے کیس میں نکھل گپتا نے عدالت میں تین سنگین الزامات قبول کیے ہیں۔ پہلا، اس  نے سپاری دے کر قتل کروانے کی کوشش کی۔ دوسرا، قتل کی سازش خود رچی۔ تیسرا، اس مقصد کے لیے غیر قانونی مالی لین دین کیا۔ ان الزامات کے تحت گپتا کو زیادہ سے زیادہ 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی حکومت نے جج سے سفارش کی ہے کہ اسے 21 سے 24 سال قید کی سزا دی جائے۔ سزا کا اعلان 29 مئی 2025 کو جج وکٹر ماریرو کریں گے۔

کون ہے نکھل گپتا؟

امریکی تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق نکھل گپتا ایک بھارتی شہری ہے، جو خود کو بین الاقوامی منشیات اور اسلحہ اسمگلر بتاتا تھا۔ الزام ہے کہ مئی 2023 میں ایک بھارتی سرکاری ملازم (عدالتی دستاویزات میں CC-1 اور بعد میں وکاس یادو کے طور پر شناخت) نے پنو کے قتل کے لیے گپتا کو بھرتی کیا تھا۔

گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ میں گرفتار کیا گیا اور جون 2024 میں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ابتدا میں اس  نے خود کو بے گناہ قرار دیا تھا، مگر مضبوط شواہد سامنے آنے کے بعد اس نے جرم قبول کر لیا۔

سازش کیسے رچی گئی؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق گپتا نے پنو کے قتل کے لیے 1 لاکھ ڈالر (تقریباً 83 لاکھ روپے) کی ڈیل کی تھی۔ اس نے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جسے وہ جرائم پیشہ سمجھتا تھا، لیکن وہ دراصل امریکی تحقیقاتی ایجنسی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کا مخبر تھا۔اس مخبر نے گپتا کی ملاقات ایک ہٹ مین سے کرائی، جو حقیقت میں امریکی انڈرکور افسر تھا۔ جون 2023 میں گپتا نے 15 ہزار ڈالر (تقریباً 12 لاکھ روپے) ایڈوانس کے طور پر ادا کیے تھے۔

وکاس یادو کا مبینہ کردار

اس پورے معاملے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) کے سابق افسر وکاس یادو کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی الزام ہے کہ یادو نے اس سازش کی ہدایت دی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈا میں خالصتانی رہنما نججر کے قتل کے چند گھنٹوں بعد یادو نے گپتا کو لاش کی ویڈیو بھیجی اور کہا کہ پنو بھی ہدف ہے اور مزید انتظار کی ضرورت نہیں۔

وکاس یادو اب سرکاری ملازم نہیں

بھارتی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وکاس یادو اب سرکاری ملازمت میں نہیں ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے پایا کہ ایک فرد نے غیر مجاز طور پر یہ سازش تیار کی تھی۔ فی الحال وکاس یادو بھارت میں موجود ہیں اور دہلی پولیس نے ایک علیحدہ کیس میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

پنو کون ہے؟

گُرپتونت سنگھ پنو کالعدم تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کا سربراہ ہے۔ بھارتی حکومت نے 2020 میں اسے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ پنو اکثر بھارت کے خلاف بیانات دیتا اور دھمکیاں جاری کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والا پنو نیویارک میں مقیم ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

9 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

9 hours ago