امریکہ-ایران ڈیل سے اسرائیل کو باہر کردیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
امریکہ اوراسرائیل جب ایران کے خلاف جنگ کی تیاری کررہے تھے، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکوایک مخصوص منصوبہ بندی کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے چند دنوں کے اندراندرایران میں مظاہرے کھڑے کئے جا سکتے ہیں جوممکنہ طور پرحکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ امریکہ کے ساتھ بھی شیئرکیا گیا اورنیتن یاہواورڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اس پریقین کیا۔
نیویارک ٹائمزکی رپورٹ میں اس منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس منصوبے میں ابتدائی طورپرممتازایرانی رہنماؤں کونشانہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پھرانٹلی جنس آپریشنزکے ذریعہ عوام کو حکومت کے خلاف متحرک کرنا تھا۔ موساد کے چیف ڈیوڈ برنیا نے کہا کہ ایرانی اپوزیشن جنگ شروع ہونے کے چند دنوں میں سرگرم ہوجائے گی اورفسادات کو ہوا دے گی۔ ٹرمپ نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ بم دھماکے ختم ہونے کے بعد اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ تاہم، جنگ کے تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایسی کوئی بڑی تحریک یا بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی۔
منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟
امریکی اوراسرائیلی انٹلی جنس رپورٹس کے مطابق، ایرانی حکومت کمزورہوئی ہے، لیکن وہ مضبوطی سے قابومیں ہے۔ ایرانی فوج اورپولیس کا خوف اس قدرشدید ہے کہ لوگ سڑکوں پرآنے سے ڈرتے ہیں۔ حکومت سے ناراض لوگ بھی اپنی جان کوخطرے میں ڈالنے سے گریزاں ہیں۔ بہت سے امریکی حکام کو پہلے ہی اس منصوبے پر شک تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جب بمباری ہو رہی ہو تو لوگ احتجاج کے لیے باہر نہیں آئیں گے۔ ایک سابق اہلکارنے کہا کہ عام شہری بغیرہتھیاروں کے مضبوط سکیورٹی فورسزکا سامنا نہیں کرسکتے، اس لیے وہ گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دریں اثنا، نیتن یاہو نے گزشتہ جمعرات کو کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام اس صورتحال کا فائدہ اٹھائیں گے جو ہم ان کے لیے پیدا کر رہے ہیں اور سڑکوں پر نکلیں گے۔ “مجھے امید ہے کہ ایسا ہی ہے۔ ہم اس سمت میں کام کر رہے ہیں، لیکن آخر کار یہ مکمل طور پر ان پر منحصر ہوگا۔”
حکمت کا حصہ تھے کرد جنگجو
اس منصوبے کا ایک حصہ شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کوایران میں دراندازی اور حملہ کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ اسرائیل نے ان کے لیے راستہ صاف کرنے کے لیے مغربی ایران پربمباری بھی کی۔ تاہم بعد میں امریکہ اس منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا۔ ٹرمپ نے واضح طورپرکہا کہ وہ کردوں کواس جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے انہیں کافی نقصان ہو سکتا ہے۔ ترکیہ نے بھی امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ وہ کردوں کی حمایت کریں۔ وہیں، کرد لیڈران نے بھی کہا کہ وہ ایسے کسی حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں کیونکہ اس سے الٹا اثرہوسکتا ہے اور ایران کے لوگ آپس میں متحد ہوسکتے ہیں؟
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت کی وزارتِ خارجہ (MEA) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کی سخت مذمت…
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے…
پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل…
مظفر نگر کے طالب کو میرٹھ کی ذاکر کالونی میں قتل کیا گیا، بیوی علمہ…
ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…
انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…