بین الاقوامی

Ukraine attacked an oil refinery in Moscow: ماسکو کے قریب تیل ریفائنری پر یوکرین کا بڑا حملہ، امریکہ نے روس پر جنگ ختم کرنے کے لیے بڑھایا دباؤ، ٹرمپ نے کہہ دی بڑی بات

نئی دہلی: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے ماسکو کے علاقے میں واقع ایک تیل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ریفائنری یوکرینی سرحد سے تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع تھی اور حملہ روس پر دباؤ بڑھانے اور جنگ کے خاتمے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

روس کے حملوں کا جواب

یوکرین کا یہ حملہ روس کی جانب سے ایک روز قبل کیے گئے شدید فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ روس نے اتوار کی رات یوکرین پر 70 میزائلوں اور 611 ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں 60 سے زائد میزائل صرف دارالحکومت کیف پر داغے گئے۔ حملوں کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ کیف میں 35 افراد زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں زخمیوں کی تعداد 53 بتائی گئی ہے۔

صدر زیلنسکی کا دعویٰ

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس بار ماسکو نے بھی یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا اثر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے علاقے میں تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع ایک تیل ریفائنری کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

یوکرینی فورسز کو مبارکباد

زیلنسکی نے یوکرین کی سکیورٹی سروس، بغیر پائلٹ نظام کے دستوں، خصوصی آپریشنز فورسز، دفاعی انٹیلی جنس اور میزائل فورسز کے اہلکاروں کا کامیاب کارروائی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کو یوکرینی عوام کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اس دباؤ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق یہ کارروائی روسی حملوں اور جنگ کو طول دینے کی پالیسی کا مناسب جواب ہے، جبکہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ جنگ ختم ہو۔

جی-7 میں ٹرمپ کا روس کو پیغام

دوسری جانب فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی-7 اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روس پر جنگ ختم کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ٹرمپ نے کہا کہ روس کو اب معاہدہ کر لینا چاہیے کیونکہ روس اور یوکرین دونوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بھاری جانی نقصان پر تشویش

امریکی صدر کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران دونوں ممالک کے تقریباً 35 ہزار فوجی مارے گئے ہیں اور یہ صورتحال ہر ماہ دہرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاگل پن کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مسلسل لڑ رہے ہیں اور اپنے فوجیوں کو کھو رہے ہیں۔ ان کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کی صورتحال کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔

جنگ کے حل سے متعلق ٹرمپ کا مؤقف

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس سے قبل آٹھ جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کر چکے ہیں اور انہیں لگتا تھا کہ روس۔یوکرین تنازع کا حل سب سے آسان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈران کے درمیان کافی اختلافات اور تلخیاں موجود ہیں، پھر بھی وہ مستقبل میں دوبارہ ان سے ملاقات کریں گے تاکہ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

7 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

7 hours ago