آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ نے اتوار، 21 ستمبر کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بیانات جاری کرتے ہوئے فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب G7 کے طاقتور معیشتوں والے ممالک نے فلسطین کو ریاستی درجہ دیا ہے۔ اتوار کی شب پرتگال نے بھی اسی نوعیت کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔
اقوام متحدہ کے 147 ممالک کی اس فہرست میں، جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے، اب بیلجیم، فرانس، لکسمبرگ، مالٹا، اور ممکنہ طور پر نیوزی لینڈ اور لیکٹنسٹائن بھی شامل ہونے جا رہے ہیں۔ یہ تمام ممالک پیر کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی حمایت میں اپنی باضابطہ پوزیشن کا اعلان کریں گے، تاکہ فلسطین-اسرائیل تنازع کے پرامن حل کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
اسرائیل اور امریکہ کا ردِعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر 7 اکتوبر کے حماس حملوں کے تناظر میں دہشت گردی کو فروغ دینے” کا الزام لگایا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:”اردن ندی کے مغرب میں کوئی فلسطینی ریاست نہیں بننے دی جائے گی۔
کیا فلسطین کے لیے کچھ بدلے گا؟
دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک رکھا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو، جو فلسطینی ریاست کے شدید مخالف ہیں، انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ان کوششوں کو “یکطرفہ اقدام” قرار دیا اور اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے بھی “یکطرفہ اقدامات” کی دھمکی دی ہے – جن میں ممکنہ طور پر مغربی کنارے (West Bank) کے کچھ علاقوں پر مکمل قبضہ شامل ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران کہا:”یہ بالکل واضح ہے کہ اگر ہمارے خلاف یکطرفہ اقدام کیا گیا، تو یہ ہمیں بھی یکطرفہ اقدام کرنے کی دعوت دے گا۔”نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے اتحادی طویل عرصے سے مغربی کنارے کے بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے حامی رہے ہیں، جس سے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
اگرچہ یورپ، آسٹریلیا، اور دیگر ممالک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کیے جانے سے بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط علامتی پیغام گیا ہے، لیکن زمینی حقائق میں فوری تبدیلی ممکن نہیں، خاص طور پر جب امریکہ اور اسرائیل دونوں اس کی شدید مخالفت کر رہے ہوں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینیوں کی قسمت شاید تب ہی بدلے گی جب بڑی طاقتیں محض سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر حقیقی اقدامات کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…
بسپا سربراہ نے کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا، اتر…
اداکارہ نے نانا پاٹیکر پر لگائے گئے اپنے الزامات پر قائم رہنے کی بات کہی،…
مدورانتکم اور دھاراپورم دونوں اسمبلی سیٹوں پر ٹی وی کے امیدوار آگے، مئی میں حکومت…
پونے کے فارم ہاؤس میں اداکار کی آخری رسومات ادا کی گئیں، ترنگے میں لپٹے…
راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت…