امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کے معاملے پر مشہور میڈیا ٹائیکون روپرٹ مرڈوک اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ ٹرمپ نے ان سے 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے ایک خبر شائع کی تھی ،جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2003 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو سالگرہ پر ایک مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا، جس میں ایک برہنہ عورت کی کمر کے نیچے جنسی شکل میں ٹرمپ کے دستخط تھے۔
ٹرمپ نے یہ مقدمہ فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیا ہے۔ انہوں نے اخبار اور اس کے مالکان کو چیلنج کرتے ہوئے ان سے 10 ارب ڈالر کا ہرجانہ مانگا ہے۔
“یہ ایک اسکینڈل ہے…”
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، ٹرمپ نے لکھا:”میں نے روپرٹ مرڈوک سے کہا تھا کہ یہ ایک اسکینڈل ہے، انہیں یہ فرضی خبر نہیں شائع کرنی چاہیے، لیکن انہوں نے اسے شائع کیا، اور اب میں ان پر اور ان کے گھٹیا اخبار پر مقدمہ کرنے جا رہا ہوں۔”ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مرڈوک نے اس معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا:”مرڈوک نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے، لیکن ظاہر ہے کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے بجائے، وہ ایک جھوٹی، بدنیتی پر مبنی اور توہین آمیز خبر شائع کر رہے ہیں۔”رپورٹ سامنے آنے کے بعد ٹرمپ نے مقدمہ دائر کرنے کی جو دھمکیاں دی تھیں، وہی اب قانونی کارروائی کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ ٹرمپ نے لکھا: “میں روپرٹ مرڈوک اور ان کے ‘کچرے کے ڈھیر’ اخبار WSJ کے خلاف اپنے مقدمے میں گواہی دینے کے لیے تیار ہوں، یہ ایک دلچسپ تجربہ ہوگا۔”یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک اس مقدمے کی باقاعدہ شکایت کی کاپی عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی ہے۔
ٹرمپ اور ایپسٹین کا معاملہ
امریکہ کے ایک امیر فنانسر، جیفری ایپسٹین پر پہلی بار 2006 میں جنسی جرائم کا الزام لگا تھا، جب ایک 14 سالہ لڑکی کے والدین نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس نے فلوریڈا میں واقع اپنے گھر میں ان کی بیٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ اس کے بعد ایپسٹین کو تقریباً 13 ماہ قید کی سزا ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ وفاقی الزامات سے بچ نکلا، جن کی صورت میں اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔جولائی 2019 میں، ایپسٹین کو نیویارک میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور اس پر درجنوں لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کے ساتھ پیسے کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام لگا۔ایپسٹین نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی۔ 10 اگست 2019 کو جب وہ حراست میں تھا، حکام کے مطابق وہ جیل کی کوٹھری میں پھندا لگا کر مردہ پایا گیا۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ حکام ایپسٹین سے جڑی معلومات چھپا رہے ہیں ،تاکہ ٹرمپ سمیت دیگر امیر اور بااثر افراد کو بچایا جا سکے۔نیویارک کے ایک پراپرٹی کاروباری کی حیثیت سے ٹرمپ نے ایپسٹین کے ساتھ کام کیا تھا۔ جب ٹرمپ نے دوسری بار صدارتی انتخاب لڑا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ‘شاید’ اس معاملے سے متعلق فائلیں جاری کریں گے۔ تاہم صدارت سنبھالنے کے بعد، ان کے کئی حامی اس بات پر مایوس ہوئے کہ وہ اس معاملے میں کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھا سکے۔
ایپسٹین فائلز کے انکشاف کا مطالبہ دبانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوششیں بڑی حد تک ناکام رہیں۔ گزشتہ ہفتے محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کی جانب سے جاری ایک یادداشت میں کہا گیا تھا کہ ان فائلز میں کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں جو مزید تحقیقات کا جواز فراہم کرے۔ اس یادداشت کے بعد دونوں اداروں کے سربراہان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…