بین الاقوامی

Trump softens china tarrif threat: ٹرمپ کی نکلی اکڑ! 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بعد تبدیل ہوا امریکی صدر کالہجہ، شی جن پنگ کی ستائش کی

چین کے سخت تیور اور بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سکتے میں آ گئے ہیں۔ چین کے خلاف سخت موقف اختیاروالے ٹرمپ کا لہجہ اچانک نرم پڑ گیا ہے۔ کچھ دن پہلے تک چین پر ’دشمانہ پالیسیوں‘  کا الزام لگانے والے ٹرمپ اب بیجنگ سے صلح چاہتے ہیں۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی دل کھول کر تعریفیں کیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چین کی مدد کرنا چاہتا ہے، نہ کہ اسے نقصان پہنچانا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا:

’’چین کی فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا! نہایت قابلِ احترام صدر شی جن پنگ حال ہی میں ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ وہ اپنے ملک میں کساد بازاری (مندی) نہیں چاہتے، اور میں بھی نہیں چاہتا۔ امریکہ چین کی مدد کرنا چاہتا ہے، اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔‘‘ ٹرمپ کا یہ بدلا ہوا لہجہ حیران کن ہے، کیونکہ چند روز پہلے ہی انہوں نے چین پر ’’ریئر ارتھ ایلیمنٹس‘‘ (Rare Earth Elements) کی برآمدات پر کنٹرول کو ’’بدنیتی پر مبنی اور دشمنی والا قدم‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے چین پر عالمی تجارت پر قبضے کی کوشش کا الزام بھی لگایا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

بیجنگ کا سخت جواب

ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں پر چین نے سخت اعتراض کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ دباؤ میں نہیں آئے گا۔ چین کی وزارتِ تجارت نے واشنگٹن سے اپنی ’’غلط پالیسیوں‘‘ کو فوراً درست کرنے اور برابری کی سطح پر بات چیت کا مطالبہ کیا۔ بیجنگ نے اپنے بیان میں کہا: ہم ٹیرف جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہم اس سے ڈرتے بھی نہیں ہیں۔ وزارتِ تجارت نے انتباہ دیا کہ اگر امریکہ اسی راستے پر ڈٹا رہا، تو چین بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت قدم اٹھائے گا۔

برآمدات پر کوئی مکمل پابندی نہیں ہے

اپنے بیان میں چین نے یہ بھی واضح کیا کہ برآمداتی کنٹرول کا مطلب مکمل پابندی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لائسنسز شہری اور انسانی مقاصد، جیسے طبی امداد اور آفات سے بچاؤ و راحت کے لیے جاری کیے جائیں گے۔

نایاب ارضی معدنیات کی کانکنی میں چین کی برتری

قابلِ ذکر ہے کہ دنیا بھر میں نایاب ارضی معدنیات (Rare Earth Minerals) کی کانکنی میں چین کا تقریباً 70 فیصداور ان کی پراسیسنگ میں 90 فیصدحصہ ہے، جس کی وجہ سے عالمی سپلائی چینز میں چین کا غلبہ قائم ہے۔ یہ معدنیات جیٹ انجنز، اسمارٹ فونز، ریڈار سسٹمزاور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

19 minutes ago

UPSC CSE Mains Results 2026: یو پی ایس سی سول سروسز مین امتحان 2026 کا نتیجہ جاری، انٹرویو کا مرحلہ جلد ہوگا شروع

یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…

46 minutes ago

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں انسانیت کی بہترین مثال، جانئے پوری تفصیل

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 hours ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

3 hours ago