2025 کے اسمبلی انتخابات کے لیے این ڈی اے کے اندر سیٹوں کی تقسیم کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس میں بی جے پی اور جے ڈی یو کو مساوی سیٹیں مل رہی ہیں، ہر ایک کو 101- 101 ملی ہیں وہیں دوسری طرف چراغ پاسوان کو 29 سیٹیں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جیتن رام مانجھی اور اوپیندر کشواہا کو صرف6 سیٹیں ملی ہیں۔ مانجھی اور کشواہا اس تقسیم سے خوش نہیں ہیں، لیکن چراغ پاسوان کافی مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی حکمت عملی اور دباؤ کی سیاست نے انہیں یہ فائدہ پہنچایا ہے۔
چراغ پاسوان، بہار کی سیاست میں حکمت عملی
چراغ پاسوان نے اس بار بہار کی سیاست میں خود کو ایک حکمت عملی کے طور پر ثابت کیا ہے۔ انہوں نے جیتن رام مانجھی اور اپیندر کشواہا کے ساتھ مل کر این ڈی اے کے اندر دباؤ ڈالا۔ اس گروپ نے بی جے پی اور جے ڈی یو پر اتنا دباؤ ڈالا کہ چراغ پاسون کو 29 سیٹیں مل گئیں۔ سیٹوں کی تقسیم سے پہلے امید کی جا رہی تھی کہ 18 سے 22 سیٹیں ملنے کی امید جتائی جارہی ہے ۔
2020 کے انتخابات سے سیکھا سبق
چراغ پاسوان نے یقینی طور پر بی جے پی کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ صرف 5-6 فیصد ووٹ بینک کے لیڈر نہیں ہیں۔ انہوں نے 2020 کے اسمبلی انتخابات سے سبق سیکھا۔ 2020 میں انہوں نے اکیلے الیکشن لڑا اور صرف ایک سیٹ جیتی۔ اس بار انہوں نے پہلے سے تیاری کی اور مانجھی اور کشواہا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا۔ پہلے بی جے پی نے مانجھی کو چراغ پاسوان کے خلاف استعمال کیا تھا، لیکن اس بار چراغ نے مساوات بدل دی۔
انہوں نے 29 سیٹیں کیسے حاصل کیں؟
بی جے پی کو چراغ پاسوان کو منانے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی۔ دھرمیندر پردھان، ونود تاوڑے اور منگل پانڈے جیسے رہنما ان کے گھر گئے۔ نتیا نند رائے ایک دن میں تین بار چراغ پاسوان سے ملنے بھی گئے۔ جب بات نہ بنی تو وہ چراغ پاسوان کی ماں سے ملے۔ اس کے بعد چراغ کچھ نرم ہوئے اور انہوں نے 29 سیٹیں مل گئیں۔
چراغ کی حکمت عملی سے بی جے پی کو فائدہ ہوا
چراغ پاسوان کی حکمت عملی کا بھی بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چچا پشوپتی پارس کو زبردست شکست دی۔ اس سے عمل سے انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ رام ولاس پاسوان کے اصلی چانکیہ ہیں ۔
“موسم کے سائنسدان” کہا جا رہا ہے
چراغ پاسوان کو اب بہار کی سیاست میں “موسم کے سائنسدان” کہا جا رہا ہے۔ وہ ہوا کے رکھ کو موڑنے اور اتحاد کا فائدہ اٹھانے میں ماہر ہے۔ اسمبلی انتخابات میں ان کی حکمت عملی نے نہ صرف انہیں مضبوط کیا بلکہ بی جے پی کو بھی اتنی ہی سیٹوں پر مقابلہ کرنے کی اجازت دی جتنی جے ڈی یو۔
بھارت ایکسپریس اردو
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…