بین الاقوامی

US-Iran Tension: ٹرمپ نے خامنہ ای کے ملک کو نقشے سے مٹانے کی کھائی قسم، ایرانی پاسداران انقلاب کا سخت انتباہ، کہا -کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، ٹریگر پر ہیں انگلیاں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی سمت ایک بڑی فوجی طاقت روانہ کر رہا ہے، جس کے بعد تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر نے امریکہ اور اسرائیل کو کھلے الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈرنے اپنے  بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ماضی کے تجربات اور گزشتہ برس کی جنگوں سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ  خطرناک اور سنگین ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور اور ایران کی دفاعی قوت ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران کی جانب ایک بڑی فوجی طاقت بڑھ رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کی خواہش فوجی کارروائی کی نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایک بڑا بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔امریکی حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ پہنچیں گے۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے سے کئی جنگی بحری جہاز روانہ ہو چکے ہیں، جن میں یو ایس ایس ابراہام لنکن، تباہ کن جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اضافی فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کیں تو امریکہ خاموش نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر ایسا ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ادھر اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی تنظیم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق گزشتہ کئی مہینوں سے ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق نہیں ہو سکی، حالانکہ طے شدہ اصولوں کے تحت باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے تھا۔ ان حالات میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

4 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

47 minutes ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

1 hour ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago