بین الاقوامی

Trump’s Statement: ٹرمپ کی دھمکی! کہا کہ ہمارے آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا، وہ یا تو ہتھیار ڈالیں یا موت کا سامنا کریں

امریکہ اور اسرائیل نے آج ایران پر مشترکہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کی دارالحکومت تہران اور دیگر علاقوں میں کئی مقامات پر دھماکے ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ آپریشن ’میجر کومبیٹ آپریشنز‘ ہے اور اس کا بنیادی مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کی آزادی امریکہ کے لیے اہمیت رکھتی ہے اور انہوں نے ایرانی فوج سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

ایران کو نیوکلیئر طاقت بننے کا حق نہیں؟

ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ حملے ختم ہونے کے بعد اپنی حکومت پر قبضہ کریں، یہ ان کے لیے نسلوں کا موقع ہے۔ انہوں نے ایرانی لوگوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں کیونکہ باہر بہت خطرناک ہے اور بم ہر جگہ گر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی فوج اور پولیس کو خبردار کیا کہ اگر ہتھیار ڈالیں تو انہیں معافی اور تحفظ ملے گا، ورنہ موت یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی نیوکلیئر طاقت نہیں بن سکتا۔ اس کے ساتھ، اسرائیل نے پری-ایمپٹیو اسٹریک شروع کی اور 30 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے جن میں صدر کے محل، انٹیلیجنس وزارت، دفاعی وزارت، سپریم لیڈر کا دفتر، نیوکلیئر ایجنسی اور پرچین ملٹری کمپلیکس شامل ہیں۔ تہران میں دھواں اور دھماکوں کی خبریں موصول ہوئیں۔ امریکہ نے یہ آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے نام سے چلایا۔

ایران نے اسرائیل پر 70 سے زائد  داغے میزائل

ایران نے 70 سے زیادہ میزائل اسرائیل پر داغے اور تل ابیب کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران نے بحرین میں امریکی نیوی بیس پر بھی حملہ کیا۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے ریڈ سی میں دوبارہ حملے شروع کیے۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ جگہ منتقل کیا گیا ہے اور صدر مسعود پےژشکیان بھی محفوظ ہیں۔ کئی ممالک میں فضائی حدود بند ہو گئی ہیں اور پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔

نیوکلیئر مذاکرات اور عالمی تشویش

ٹرمپ نے کہا کہ ایران دوبارہ نیوکلیئر پروگرام اور لمبی فاصلے کی میزائلیں تیار کر رہا ہے۔ حالیہ حملوں سے میزائل انڈسٹری تباہ ہوگی۔ نیوکلیئر مذاکرات جاری تھے، لیکن ان حملوں نے مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ روس نے امریکہ سے حملہ روکنے کی اپیل کی ہے۔ بھارت نے اسرائیل میں اپنے شہریوں کے لیے ہیلپ لائن جاری کی ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ جیسا ماحول ہے اور تناؤ بہت زیادہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Capital’s Pace Slows Amidst Diwali Festivities: دیوالی کی رونق میں دارالحکومت کی رفتار تھمی، دہلی سے نوئیڈا تک شدید ٹریفک جام

ٹریفک پولیس کی جانب سے اضافی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات…

23 minutes ago

Japan Earthquake: جاپان میں پھر زلزلے کے شدید جھٹکے، دکانوں کے شیشے ٹوٹے، بھگدڑ میں 22 افراد زخمی

جاپانی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے…

56 minutes ago