بین الاقوامی

Afghanistan-Pakistan Conflict: ’’پاکستان نہیں افغانستان کے پالے میں ہے گیند، جو چاہے گا وہ ہوگا…‘‘، بلوچ لیڈر کا بڑا بیان

نئی دہلی: افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فری بلوچستان موومنٹ کے کابینہ رکن مولا بخش بلوچ نے کہا ہے کہ اب صورتحال پاکستان کے قابو میں نہیں رہی اور جنگ بندی کا فیصلہ صرف افغانستان ہی کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور اب آگے کیا ہوگا، اس کا انحصار کابل کے فیصلے پر ہے۔

فن لینڈ میں مقیم بلوچ لیڈر مولا بخش بلوچ نے آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے سرپرست ممالک کو خوش کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک بڑا ملک ہونے کے باوجود معاشی طور پر کمزور ہے اور عالمی سطح پر ہمدردی اور مالی امداد حاصل کرنے کے لیے خود کو دہشت گردی کا شکار ظاہر کرتا ہے۔

عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے پاکستان

انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو کسی بھی مذہب یا انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور پاکستانی فوج صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ماہِ رمضان کے دوران حملوں کی شدید تنقید

مولا بخش بلوچ نے ماہِ رمضان کے دوران حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، “جو خود کو اسلامی ریاست کہتے ہیں، وہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی حملے کر رہے ہیں، جس کی میں سخت مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان نے اس بار حملہ کر کے بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج خود اسے بھگتنا پڑیں گے۔ افغانستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرتا ہے، اس لیے نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔”

خطے میں بدامنی کو فروغ دے رہا ہے پاکستان

جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان اس طرح کی کارروائیاں کیوں کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں بدامنی کو فروغ دے رہا ہے اور بلوچستان، افغانستان اور بھارت میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے۔

پاکستان کے نہیں افغانستان کے پالے میں ہے گیند

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے کھلی جنگ کے اعلان کے بعد مستقبل کے امکانات پر بات کرتے ہوئے بلوچ لیڈر نے کہا،
“اب گیند پاکستان کے نہیں بلکہ افغانستان کے پالے میں ہے۔ اگر افغانستان چاہے گا تو ہی یہ تنازع ختم ہوگا، ورنہ تصادم مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ افغانستان کے لیے اہم موقع ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کے مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔”

2,611 کلومیٹر طویل سرحدی لکیر ہے ڈیورنڈ لائن

ڈیورنڈ لائن تقریباً 2,611 کلومیٹر طویل سرحدی لکیر ہے جو برطانوی دورِ حکومت میں کھینچی گئی تھی۔ پاکستان اسے اپنی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے، جبکہ افغانستان کی کسی بھی حکومت نے اسے باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ افغانستان کا مؤقف ہے کہ یہ سرحد اس کے تاریخی اور قبائلی علاقوں کو تقسیم کرتی ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں اکثر کشیدگی اور جھڑپیں دیکھنے میں آتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

57 minutes ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

1 hour ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

2 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

2 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

3 hours ago