بین الاقوامی

Tehran Resumes International Flight: ایران-امریکہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے دوران تہران نے دوبارہ شروع کیا بین الاقوامی پروازوں کا آپریشن

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب پہلی بار حملوں کے آغاز کے بعد تہران سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔

امام خمینی ایئرپورٹ سے استنبول کے لیے چار پروازیں چلائی گئیں

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق ہفتے کی صبح تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے استنبول کے لیے چار پروازیں چلائی گئیں، جو تمام ایرانی ایئرلائنز کے ذریعے آپریٹ کی گئیں۔نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ’’مقامی ایئرلائنز کی کوششوں سے مسافروں کے پہلے گروپ کو مدینہ، مسقط اور استنبول روانہ کیا گیا۔‘‘ایجنسی نے آنے والے دنوں میں پروازوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم یہ صورتحال جنگ بندی پر منحصر ہوگی۔

’امریکہ جنگی دلدل میں پھنس چکا ہے‘

امریکی میڈیا سی این این نے فلائٹ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ فی الحال مدینہ اور مسقط کے لیے کوئی پرواز نہیں چلائی گئی۔ دوسری جانب ایران کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکہ جنگی دلدل میں پھنس چکا ہے اور اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان جا رہے ہیں۔ تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا ہے، اور اب بات چیت پاکستان کی ثالثی کے ذریعے متوقع ہے۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ اس کے بعد ان کے عمان اور روس کے دورے بھی متوقع ہیں۔

فی الحال ایران کی امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں؟

خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق عراقچی اپنے دورے کے دوران امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق عمان کے دارالحکومت مسقط میں وہ علاقائی مسائل اور جنگ سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے، جبکہ روس میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو ہوگی۔عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ان کے دوروں کا مقصد دوست ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ اور علاقائی حالات پر مشاورت ہےاور پڑوسی ممالک ایران کی ترجیح ہیں۔تسنیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال ایران کی امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور عراقچی کا پاکستان کا دورہ بھی امریکی فریق سے مذاکرات کے لیے نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

1 hour ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago