طارق رحمان سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے بیٹے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے مرکزی رہنما ہیں۔ 2007 کے سیاسی بحران کے بعد وہ برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان پر بدعنوانی سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے، تاہم ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی رہی ہے۔ جلاوطنی کے دوران بھی وہ بیرونِ ملک سے پارٹی کی قیادت اور حکمتِ عملی میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا طارق رحمان اپنے والد ضیاء الرحمٰن کی طرح ملک کو سنبھال پائیں گے؟ ضیاء الرحمٰن کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے مشکل حالات میں قیادت سنبھالی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمان کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہوں گے، جن میں سیاسی استحکام قائم کرنا، معیشت کو مضبوط بنانا، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نمٹنا، اور عالمی سطح پر متوازن تعلقات برقرار رکھنا شامل ہیں۔ عوامی توقعات بھی بہت زیادہ ہیں، اس لیے ان کی قیادت کا اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ یہ حلف برداری بنگلہ دیشی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتی ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اپنے والد کی سیاسی وراثت کو کس حد تک آگے بڑھا پاتے ہیں اور ملک کو کس سمت لے جاتے ہیں۔
209 نشستوں پر قبضہ – طارق رحمان کی بڑی جیت
عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں ہونے والے اس انتخاب میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے کلین سویپ کیا۔ پارٹی نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت لیں۔ طارق رحمان نے خود ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔
جماعتِ اسلامی70 نشستیں حاصل کیں
جماعتِ اسلامی کے 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے مجموعی طور پر 70 نشستیں حاصل کیں۔ جماعت کے امیر شفیق الرحمان ڈھاکہ-15 سے کامیاب ہوئے۔طلبہ تحریک سے ابھرنے والی جماعت “نیشنل سٹیزن پارٹی” (NCP) کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ وہ 30 میں سے صرف 5 نشستیں ہی جیت سکے۔ سڑکوں پر مقبولیت ووٹوں میں تبدیل نہ ہو سکی۔
35 سال بعد مرد وزیراعظم
طارق رحمان کے حلف اٹھاتے ہی بنگلہ دیش میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔ 35 سال بعد کسی مرد وزیرِ اعظم کے ہاتھ میں اقتدار آئے گا۔ 1988 میں قاضی ظفر احمد آخری مرد وزیرِ اعظم تھے۔ 1990 کے بعد سے ملک کی سیاست زیادہ تر دو بیگمات — خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ — کے گرد گھومتی رہی۔
کانٹوں بھرا تاج
60 سالہ طارق رحمان سابق صدر اور BNP کے بانی ضیاء الرحمٰن اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے ہیں۔ خالدہ ضیاء کا گزشتہ سال دسمبر میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوا تھا۔ طارق رحمان کا سیاسی سفر آسان نہیں رہا۔ 2008 میں علاج کی غرض سے لندن جانے کے بعد وہ 17 سال تک جلاوطنی میں رہے۔ اب اقتدار سنبھالنا ان کے لیے ایک بڑے امتحان سے کم نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…
سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…