غزہ میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے خود اس کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر کیا اور اسے ایک تاریخی اور بے مثال واقعہ قرار دیا۔ حماس اوراسرائیل ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت جاری مذاکرات کے تیسرے دن غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس مرحلے کے تحت حماس 20 یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں میں اسرائیل کے سپرد کرے گی، جس کے بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں میں قید 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
ٹرمپ کا کیا کہنا ہے؟
ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد کرے گا، یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائے گا اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجیوں کا یقینی انخلاء ہوگا۔ انہوں نے اسے دیرپا امن کی جانب پہلا مضبوط قدم قرار دیا۔ اس اعلان کے بعد غزہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، لوگ جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔
دستخط مصر میں ہونے والے ہیں
اس معاہدے پر مصر میں جمعرات نو اکتوبر کو دستخط کیے جائیں گے۔ اس میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے غزہ میں فوری طور پر پانچ کراسنگ کھولنا، غزہ سے انخلاء کے نقشے میں تبدیلی اور پہلے مرحلے میں 20 اسرائیلی قیدیوں کی زندہ رہائی شامل ہے۔ اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ثالثی کی کوششوں پر قطر، مصر اور ترکی کا شکریہ ادا کیا اور لکھا،”یہ عرب اور مسلم دنیا، اسرائیل، ارد گرد کی تمام اقوام اور امریکہ کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ مبارک ہو، وہ لوگ جو امن قائم کرتے ہیں۔”
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دیا بیان
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے ایک عظیم دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے معاہدے کی منظوری اور تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ایک اجلاس بلائیں گے۔ نیتن یاہو نے آئی ڈی ایف کے فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کا ان کی ہمت اور قربانی پر شکریہ ادا کیا۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ”میں صدر ٹرمپ کی قیادت، شراکت داری، اور اسرائیل کی سلامتی اور ہمارے یرغمالیوں کی آزادی کے لیے غیر متزلزل عزم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمارے تمام یرغمالیوں کی واپسی نہیں ہو جاتی اور ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
اقوام متحدہ نے غزہ امن معاہدے کا خیرمقدم کیا
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بدھ کو دیر گئے اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں ملی کامیابی کا خیرمقدم کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ “معاہدے کی شرائط کی مکمل پابندی کریں۔” گٹیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کرے گا اور وہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔ انسانی امداد اردن اور مصر کی سرحدوں پر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیتا ہوں کہ وہ قبضے کے خاتمے، فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے، اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے اس اہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قابل اعتماد سیاسی راستہ اختیار کریں جس سے اسرائیلی اور فلسطینی امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں”۔
بھارت ایکسپریس اردو
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…