بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ
بنگلہ دیش اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے فیصلے کی دہلیز پرہے۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں 17 نومبرکواپنا فیصلہ سنائے گا۔ فیصلے کی تاریخ مقررہونے سے پہلے ہی ملک میں کشیدگی اوربدامنی بڑھ گئی تھی۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے کئی حصوں میں عوامی لیگ کے حامیوں اورسکیورٹی فورسیزکے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ سڑکوں پر لگے بینرزاورپوسٹرز، سوشل میڈیا پراپیلوں اور وسیع پیمانے پرہونے والے احتجاج نے ماحول کومزید گرما دیا ہے۔
شیخ حسینہ کوسنگین الزامات کا سامنا ہے، جن میں قتل، تشدد کو روکنے میں ناکامی اورانسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ اس سے قبل کئی میڈیا رپورٹس میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ شیخ حسینہ کے خلاف فیصلہ 13 نومبرکوسنایا جائے گا۔ تاہم جمعرات کوجب سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ ہی کیا جائے گا کہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔ عدالت نے 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کا کیسے ہوا قیام؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) کا قیام شیخ حسینہ نے خود 2009 میں بھی کیا تھا۔ اب وہی عدالت ان پر 1971 کی جنگ آزادی کے دوران کیے گئے جنگی جرائم کا مقدمہ چلا رہی ہے۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں بنی عبوری حکومت نے آئی سی ٹی کے دائرہ اختیار کو بناکر حال کے سیاسی تشدد کو بھی اس میں شامل کیا۔
شیخ حسینہ پر کیا ہے الزام؟
حکومتی استغاثہ کا الزام ہے کہ شیخ حسینہ نے جولائی 2024 میں طلبا کے احتجاج کو دبانے کے لئے فائرنگ کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ شیخ حسینہ پرپانچ سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں، جن میں سب سے اہم قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، حسینہ کی پارٹی نے ان الزامات کوسیاسی انتقام قراردیا ہے۔ پارٹی لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ اپوزیشن کوختم کرنے کی سازش ہے۔
طلبا تحریک اور اقتدارمیں تبدیلی
یہ معاملہ اس جولائی 2024 کی طلبا تحریک سے جڑا ہے، جس نے دھیرے دھیرے شیخ حسینہ کی حکومت کو گرا دیا۔ شروعات یونیورسٹیوں میں بدعنوانی اور پولیس کی زیادتی کے خلاف ہوئی تھی، لیکن جلد ہی یہ حکومت مخالف عوامی تحریک بن گئی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ان احتجاج اور تشدد میں تقریباً 1,400 لوگوں کی موت ہوئی۔ مظاہرین پر گرفتاری، ٹارچر اور فائرنگ کے الزام لگے۔ حالات بگڑنے پر5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ ہندوستان بھاگ گئیں اوربنگلہ دیش میں عبوری حکومت کی تشکیل ہوئی، جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس بنے۔
سیکورٹی الرٹ اور بڑھتی کشیدگی
نئی عبوری حکومت نے عوامی لیگ اور اس کی اتحادی تنظیموں پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے باوجود پارٹی کے لیڈر سوشل میڈیا کے ذریعہ حامیوں سے اپیل کررہے ہیں۔ پورے ملک میں فلیش ریلیاں، گاڑیوں میں آگ زنی اور کاکٹیل بم دھماکوں کی خبریں آرہی ہیں۔ پولیس نے چیک پوسٹ اور تلاشی مہم تیز کردیئے ہیں۔ کئی لیڈران اور کارکنان کوگرفتارکیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش اس وقت ہائی الرٹ پرہے اورچیف ایڈوائزرمحمد یونس کے جلد ہی ملک کوخطاب کرنے کا امکان ہے۔
امریکا نے جمعرات کو ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے انفوسس، ٹی…
ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کے وزن کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ،…
نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…
میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…