مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان قطر کی وزارت داخلہ نے عوام کے نام ایک اہم عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کسی بھی حادثے یا سیکیورٹی واقعے سے متعلق ویڈیو کلپس یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے چوتھے روز قطر اور بحرین دونوں کی جانب سے شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ قطر کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ شہری حادثات یا کسی بھی ہنگامی صورتحال کی جگہ کے قریب جمع نہ ہوں اور نہ ہی جائے وقوعہ پر جانے کی کوشش کریں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ جاری فیلڈ آپریشنز یا سیکیورٹی کارروائیوں سے متعلق کسی بھی قسم کا مواد، تصاویر یا ویڈیوز کی شکل میں ریکارڈ کر کے شیئر کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات متعلقہ حکام کے کام میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔ دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی شہریوں اور مقیم افراد سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ سائرن بج چکا ہے اور تمام شہری قریبی محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔ وزارت نے لوگوں سے کہا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
ایران کے شارگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق تہران میں ایران کی پرانی پارلیمنٹ عمارت کے قریب فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ حملہ شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں ولی عصر اور جامی اسٹریٹ کے چوراہے کے نزدیک ہوا، جہاں متعدد ثقافتی مقامات اور عجائب گھر واقع ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب، یعنی اسلامک انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی)، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آج صبح بحرین کے شیخ عیسیٰ علاقے میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے کو ڈرون اور میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔ جاری بیان کے مطابق بیس بڑے ڈرون اور تین میزائل داغے گئے، جن کے نتیجے میں امریکی ایئر بیس کی مرکزی کمان اور ہیڈکوارٹر عمارت تباہ ہو گئی اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
ادھر امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق خبر رساں ایجنسی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کے مطابق ہفتہ کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد سات سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ مقامی وقت کے مطابق پیر کی شام تک کم از کم 742 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 176 بچے بھی شامل ہیں۔ نو سو سے زائد شہری زخمی بتائے گئے ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 85 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مزید اموات کی اطلاعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دونوں ممالک کی حکومتیں شہریوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کرنے کی تلقین کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…
روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے…
نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر میں حامد انصاری نے اے جی…
برطانیہ کے ٹیل فورڈ میں ایک شخص نے سکھ بس ڈرائیور پر حملہ کرنے کے…
یوکرین نے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق…
اتراکھنڈ میں ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔…