بین الاقوامی

Indian student shot dead in US: ایران پر حملے کے خلاف امریکہ میں فائرنگ، ہند نژاد طالبہ کی گئی جان

نیویارک: امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں ایران پر امریکی حملوں کے خلاف مبینہ ردعمل کے طور پر پیش آنے والے فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں ہند نژاد ایک طالبہ سمیت دو افراد ہلاک جبکہ 14 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ اتوار کی علی الصبح آسٹن شہر میں پیش آیا، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والی طالبہ کی شناخت سویتا شان کے طور پر کی گئی ہے، جو آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس کی طالبہ تھیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت اور باہمت طالبہ تھیں جو دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کا عزم رکھتی تھیں۔

سینیگال کا رہنے والا تارک وطن تھا حملہ آور

پولیس کے مطابق حملہ آور 53 سالہ نڈیایگا ڈیاگنے تھا، جو سینیگال سے تعلق رکھنے والا ایک تارک وطن تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس نے ایرانی پرچم والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر ’اللہ کی ملکیت‘ جیسے الفاظ درج تھے۔ واقعے کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک

آسٹن پولیس چیف لیزا ڈیوس نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور نے اپنی گاڑی ایک بیئر گارڈن کے باہر کھڑی کی اور صحن میں بیٹھے افراد پر پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد وہ گاڑی سے باہر نکلا اور راہگیروں پر گولیاں چلانے لگا۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

حملہ آور کے ممکنہ دہشت گردانہ روابط کے اشارے

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے قائم مقام خصوصی ایجنٹ الیکس ڈوران کے مطابق ابتدائی شواہد سے حملہ آور کے ممکنہ دہشت گردانہ روابط کے اشارے ملے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مزید پرتشدد واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ریڈیو اسٹیشن کے مطابق 21 سالہ سویتا شان آسٹن میں پلی بڑھی تھیں اور معاشیات و مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز میں دوہری ڈگری حاصل کر رہی تھیں۔ وہ مقامی سماجی تنظیموں میں بھی سرگرم تھیں اور ایک ای کامرس کاروبار کی بانی تھیں۔

واقعے کے بعد کمیونٹی میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ حکام نے عوام سے پرسکون رہنے اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر دینے کی اپیل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Dharavi Redevelopment: دھاراوی بازآبادکاری میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر شکنجہ، جان بوجھ کر تاخیر کی تو ٹرانزٹ کرایہ بھی کم ہوگا

غیر تعاون کرنے والے مکینوں کے لیے ٹرانزٹ کرایہ کم کرنے کا فیصلہ، رضاکارانہ طور…

29 minutes ago

Amit Shah Bhopal Visit: بھوپال میں 5 روزہ ہائی ٹیک نمائش، 3 اکتوبر کو امت شاہ کریں گے افتتاح

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…

2 hours ago