کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے ہندوستانی نمائندہ آیت اللہ عبدالحکیم ماجد الٰہی سے ملاقات کی۔
نئی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈراورراجیہ سبھا کی رکن سونیا گاندھی کے ایران پرمضمون کے بعد، کانگریس کے لوک سبھا رکن عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈرکے ہندوستانی نمائندے آیت اللہ عبدالحکیم ماجد الٰہی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مسعود نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پرتعزیت کا اظہارکیا۔ نمائندے نے بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اکثرگاندھی اورنہروکا حوالہ دیتے تھے۔ انہوں نے چاربار”دی ڈسکوری آف انڈیا” پڑھا تھا اوروہ گاندھی کے نظریے سے متاثرتھے۔
دوسری جانب، اس معاملے پرعمران مسعود نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندورکے دوران کشمیرموضوع پرایران نے ہندوستان کا ساتھ دیا تھا۔ عمران مسعود نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سپریم لیڈرکا قتل کیا گیا، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے ہمدردی کے دولفظ بھی نہ آئے۔ جبکہ دشمن کی موت پربھی تعزیت کا اظہارکیا جاتا ہے اورایران توہندوستان کا دوست رہا ہے، جو ہربرے وقت میں ہندوستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
سونیا گاندھی نے کیا لکھا؟
واضح رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منگل کے روزکہا کہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ پرحکومت کی خاموشی غیرجانبداری نہیں بلکہ ذمہ داری سے دستبرداری ہے اوراس سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اورساکھ پرسنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدرنے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی نظام کی خرابی پرحکومت کی ‘فکرناک خاموشی’ پرپارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں کھل کراوربغیرکسی تاخیر کے بحث کی جانی چاہئے۔
سونیا گاندھی نے مرکزی حکومت کی خاموشی پر اٹھایا سوال
روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سونیا گاندھی نے کہا کہ اخلاقی طاقت کو”دوبارہ دریافت” کرنے اوراس کا واضح اورعزم کے ساتھ اظہارکرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، “یکم مارچ کو، ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کوایک دن پہلے امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے کئے گئے ٹارگٹ حملوں میں قتل کردیا گیا تھا۔ جاری مذاکرات کے درمیان ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل عصری بین الاقوامی تعلقات میں سنگین دراڑ پیدا کرتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود، اس حیران کن واقعہ پرنئی دہلی کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے نہ تواس قتل کی مذمت کی ہے اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کئے جانے پرسوال اٹھایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
مارکو روبیو کا دورۂ ہندوستان 18 اکتوبر کی مقررہ مدت کے چند روز بعد ہو…
بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔…
کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں…
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…
وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…