قاہرہ—قطر اور مصر نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی عمل کے تئیں اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنی کوششوں کو پوری شدت سے جاری رکھیں گے تاکہ جنگ کا خاتمہ ہو، انسانی بحران میں کمی آئے، عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہو۔ قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تین ہفتے جاری رہنے والے حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مشاورت کے لیے وقتی تعطل معمول کا حصہ ہے اور بات چیت دوبارہ شروع کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ مذاکرات بہت پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور اس دوران گفتگو روک کر مشاورت کرنا فطری عمل ہے۔
میڈیا افواہوں سے پرہیز کرے
بیان میں قطر اور مصر نے میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ذرائع ابلاغ دانستہ طور پر ایسی معلومات پھیلا رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں اور ان کا مقصد ثالثی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ یہ افواہیں ان فریقوں کی جانب سے پھیلائی جاتی ہیں جو مذاکرات کی اصل صورت حال سے ناواقف ہیں، اور ان کا مقصد غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی میڈیا ادارے جنگ بندی کے لیے جاری سنجیدہ کوششوں کی ساکھ متاثر کرنے کے بجائے غزہ میں جاری غیر معمولی انسانی بحران کو اجاگر کریں۔
امریکہ کی شراکت کے ساتھ ثالثی جاری رہے گی
قطر اور مصر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری میں وہ ایک جامع جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ قطر میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے 60 دن کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق قطری تجویز کو قبول کر لیا ہے، لیکن حماس نے اسے مسترد کر دیا۔
اسرائیلی عوام کا جنگ بندی کے حق میں رجحان
اسی دورانHostages and Missing Families Forum نے ایک بیان میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ موقع کو گنوانا ایک سنگین ناکامی ہوگی۔ ہر گزرتا دن جنگ جاری رکھتا ہے، جو نہ صرف یرغمالیوں بلکہ اسرائیلی فوجیوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ فورم نے اسرائیلی چینل 12 کے حالیہ سروے کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق 74 فیصد اسرائیلی عوام، جن میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے اتحاد کے 60 فیصد حامی بھی شامل ہیں، جنگ کے خاتمے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے حماس کے ساتھ معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی عوام کی واضح اکثریت غزہ کی جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی کی حامی ہے۔ مجموعی طور پر قطر، مصر اور امریکہ کی جانب سے یہ کوشش جاری ہے کہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچا جائے جو نہ صرف جنگ بند کرے بلکہ غزہ کے محصور شہریوں کو راحت بھی دے سکے، اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کا ذریعہ بنے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…