مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور اسی تناظر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کو ’’مکمل خودمختار‘‘ بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے دفتر کو ریاستی حکومت کے ماتحت محکمہ داخلہ و پہاڑی امور سے الگ کرتے ہوئے ایک مرکزی حکومت کی عمارت میں منتقل کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ریاست میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فی الوقت مغربی بنگال میں سی ای او کا دفتر انتظامی و مالی اعتبار سے ریاست کے محکمہ داخلہ و پہاڑی امور کے ماتحت ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال حکومت کو ایک سخت ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سی ای او کے دفتر کو مکمل مالی و انتظامی خودمختاری دی جائے۔ یہ ہدایت حال ہی میں ای سی آئی کے انڈر سیکرٹری آشوتوش ایم کی جانب سے ریاست کے چیف سیکریٹری منوج پنت کو بھیجی گئی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگلے برس ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سی ای او کے دفتر کو ریاستی محکمے سے الگ کر دینا ضروری ہے۔
دفتر کو کلکتہ کے ڈلہوزی علاقے میں اس وقت موجود بالمیر لاری بلڈنگ سے ہٹا کر، درگا پوجا (ستمبر تا اکتوبر) سے قبل ایک مرکزی حکومت کی عمارت میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سی ای او دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق ’’دفتر میں کام کرنے والے افراد کی تعداد موجودہ جگہ کے مقابلے میں کافی بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ پارکنگ کا بھی مسئلہ ہے، اس لیے ایک بڑے مقام کی تلاش کافی عرصے سے جاری تھی۔‘‘
ریاست میں ایس آئی آر کی تیاریاں شروع: سی ای او
وہیں چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال نے بتایا کہ ریاست میں بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کی تربیت کا عمل شروع ہو چکا ہے، جو ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی کے سلسلے کی ایک ابتدائی کڑی ہے۔ ای سی آئی کے مطابق موجودہ نظام کے تحت سی ای او کے دفتر کو ضروری خودمختاری حاصل نہیں اور یہ دفتر تربیتی انفراسٹرکچر کے بغیر کام کر رہا ہے، جو کہ آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ کمیشن نے ریاستی ہیڈکوارٹر نبانہ کو یہ بھی مطلع کیا ہے کہ سی ای او کو مکمل مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، حالاں کہ موجودہ سی ای او ایک سینئر افسر ہیں اور ان کا عہدہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے برابر ہے۔
نبانہ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل ڈپٹی، ایڈیشنل اور جوائنٹ سی ای او کی چار خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرے۔ واضح رہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تحت ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کا دفتر ریاستی حکومت کے مالی یا داخلہ محکمے کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، جو براہ راست الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…