بین الاقوامی

Cynical murder: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت انسانی اخلاقیات اور عالمی قوانین کی بدترین خلاف ورزی: ولادیمیر پوتن

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کو ’سنگدلانہ قتل‘ قرار دیا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پوتن نے کہا کہ یہ واقعہ ’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔ اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک ’’نمایاں مدبر رہنماُُ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے، جس کے بعد ملک میں 40 روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، نواسی، بہو اور داماد بھی مارے گئے۔

ایران میں متضاد ردعمل کی خبریں

بین الاقوامی میڈیا اداروں نے ایران کے مختلف شہروں میں عوامی ردِعمل کی ویڈیوز نشر کی ہیں۔ سی این این کے مطابق بعض شہروں میں جشن کی خبریں آئیں، جہاں ’’اسلامی جمہوریہ مردہ باد‘‘ اور ’’شاہ زندہ باد‘‘ کے نعرے سنائی دیے۔ فاکس نیوز نے بھی ایک ویڈیو جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ شہر کرج کے نواحی علاقے بیسات ٹاؤن میں کچھ افراد خامنہ ای کی ہلاکت پر جشن منا رہے ہیں۔ اسرائیل کے سابق ترجمان ایلون اے لیوی نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی خواتین سڑکوں پر رقص کر رہی ہیں۔ ایرانی کارکن اور صحافی مسیح علی نژاد نے بھی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے ’’نئی دنیا‘‘ کی شروعات قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’’ایرانی عوام کے لیے انصاف‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں فوجی کارروائیاں خطے میں امن کے حصول تک جاری رہیں گی۔

40 روزہ سوگ اور جانشینی کا سوال

شیعہ اسلام میں وفات کے چالیسویں دن ’’اربعین‘‘ کو خاص روحانی اہمیت حاصل ہے۔ ایرانی حکام نے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیے ہیں اور تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 میں انقلاب ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے بعد قیادت سنبھالی تھی اور ان کی قیادت مغربی اثر و رسوخ کی مسلسل مخالفت سے عبارت رہی۔ ملک بھر خصوصا تہران میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ اب توجہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل پر مرکوز ہے، جس کے ایران کی آئندہ قیادت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

5 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

5 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

6 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

6 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

6 hours ago