واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ زیادہ طویل نہیں چلے گی کیونکہ اب حملوں کے لیے بہت کم اہداف باقی رہ گئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اسرائیل نے واضح پیغام دیا ہے کہ فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام طے شدہ عسکری اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس تنازعے کو ختم کرنے کا اختیار ان کے ہاتھ میں ہے اور جب مناسب وقت آئے گا تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی مہم امریکی منصوبہ بندی سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر چھ ہفتوں کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی، لیکن کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کو توقع سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران کی دشمنی صرف امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں تھی بلکہ پورا مشرق وسطیٰ اس کے نشانے پر تھا۔ ان کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے خطے میں تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دیتا رہا ہے اور اب اسے اس پالیسی کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور فوجی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام طے شدہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی عسکری تنصیبات اور دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر کمزور کرنا اس مہم کا بنیادی مقصد ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک ایران کے مختلف مقامات پر فضائی اور میزائل حملے جاری رہ سکتے ہیں۔
اس دوران امریکہ کو خفیہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی کچھ کشتیاں اس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں، جن میں سے متعدد کو امریکی کارروائیوں میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی اس صلاحیت کو ختم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل حملوں کے باعث ایران کی فوجی طاقت بتدریج کمزور ہو رہی ہے اور میزائل و ڈرون حملوں کی شدت میں بھی کمی آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس تنازعے کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…