آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستے کے قریب بدھ کے روز تھائی لینڈ کے جھنڈے والے ایک کارگو جہاز ”میوری ناری“ پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ یہ جہاز بھارت کی جانب سفر کر رہا تھا اور اس پر کل 23 افراد سوار تھے۔ حملے کے بعد جہاز سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ سمندر میں لائف بوٹس تیرتی ہوئی نظر آئیں۔ واقعے کے فوراً بعد تھائی بحریہ نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے 20 اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم تین افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی حالت کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب جہاز عمان کے قریب سمندری حدود میں موجود تھا۔ واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جس میں تھائی بحریہ اور دیگر بین الاقوامی سمندری اداروں نے تعاون کیا۔ رائل تھائی نیوی کے حکام کے مطابق اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
”میوری ناری“ ایک بڑا تجارتی مال بردار جہاز ہے جس کی ملکیت تھائی لینڈ کی معروف شپنگ کمپنی ”پریشس شپنگ پی ایل سی“ کے پاس ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز متحدہ عرب امارات کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور چند گھنٹوں بعد ہی آبنائے ہرمز کے قریب اس پر حملہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کی مکمل صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ اسی دن آبنائے ہرمز کے قریب دو دیگر تجارتی جہازوں پر بھی حملوں کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد پورا خطہ شدید تشویش کا شکار ہو گیا ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی اس سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ مسلسل حملوں کے باعث یہ علاقہ اب انتہائی غیر محفوظ تصور کیا جا رہا ہے اور عالمی سمندری تجارت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے باعث نہ صرف جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کئی ممالک نے پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سمندری انشورنس بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی یا یہ راستہ بند ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی کی صورتحال پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…