پاکستان میں سیاسی عدم استحکام سے کہیں زیادہ وہاں کی کرنسی عدم استحکام کی شکار نظرآرہی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں گراوٹ کے ساتھ ان دنوں پاکستان میں صبح ہورہی ہے اور پھر مہنگائی اور بھوک مری کا گراف تیزی سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چونکہ آج ایک بار پھر پاکستانی کرنسی میں تاریخی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔چونکہ انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپئے کی قدر میں ایک پاکستانی روپئے 52 پیسے کمی ہوئی جس کے نتیجے میں ڈالر مہنگا ہو کر 306 پاکستانی روپئے کا ہوگیا۔انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپئے کی قدر میں ایک پاکستانی روپئے 52 پیسے کی کمی ہوئی ہے، جس سے مالیاتی خسارے میں گزشتہ ہفتے سے اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی گرین بیک کرنسی دوپہر ایک بجے کے قریب انٹربینک مارکیٹ میں 298.65 پاکستانی روپئے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہو رہی تھی، تاہم اب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 306 پاکستانی روپئے کا ہو گیا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی کرنسی (روپیہ) کل 297.13 پاکستانی روپئے پر بند ہوئی تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بروکریج کمپنی عارف حبیب کے ریسرچ کے سربراہ طاہر عباس نے بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ فی الحال روپیہ ڈالر کے مقابلے 295 اور 305 کے درمیان ٹریڈ کرے گا۔ طاہر عباس نے کہا کہ گراوٹ کا رجحان بنیادی طور پر درآمدی پابندیوں میں نرمی اور گڈز اور سروسز کے بیک لاگ کی منظوری سے منسوب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملٹی نیشنل کارپوریشنز پاکستانی روپئے کے اخراج کو آگے بڑھاتے ہوئے کچھ منافع واپس کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
بھارت ایکسپریس۔
منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اپنے ایک بیان میں کہا…
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…
جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کے عمر…
کولکاتا کے چورباگان درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ…
اڈانی گروپ اور گوگل کے مجوزہ اے آئی ڈیٹا سینٹر میں پانی کے استعمال پر…