بین الاقوامی

US-Iran Technical Talks: امریکہ۔ایران تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر زیورخ پہنچے

زیورخ: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات میں شرکت کے لیے اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ پہنچ گئے۔ یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ زیورخ پہنچ گئے ہیں۔ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

سوئس حکومت کا خیرمقدم

سوئس وزارتِ خارجہ نے بھی پاکستانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے ثالث ممالک میں شامل ہے، اور پاکستانی وفد مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے برگن اسٹاک (Burgenstock) جا رہا ہے۔

امریکی اور ایرانی وفود بھی مذاکرات میں شریک

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اتوار کو سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، جبکہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اتوار کو شروع ہونے کی توقع ہے۔ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مذاکرات جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری آ رہی ہے اور کشیدگی بتدریج کم ہو رہی ہے۔

محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں ایرانی وفد کی قیادت

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ہفتہ کو زیورخ پہنچا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مذاکراتی ٹیم کو ’’میناب 168‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ایرانی حکام کے مطابق ایک تاریخی واقعے کے متاثرین کی یاد میں رکھا گیا ہے۔ ایرانی وفد تہران سے اس اعلان کے فوراً بعد روانہ ہوا تھا جب ایرانی مسلح افواج نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ قطر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔

14 نکاتی مفاہمتی یادداشت

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ بدھ کو ورچوئل طور پر 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

4 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

5 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

6 hours ago