زیورخ: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات میں شرکت کے لیے اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ پہنچ گئے۔ یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ زیورخ پہنچ گئے ہیں۔ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has arrived in Zurich along with his delegation.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and COAS & CDF Field Marshal Syed Asim Munir will participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of… pic.twitter.com/7B8hwu2HI8
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 21, 2026
سوئس حکومت کا خیرمقدم
سوئس وزارتِ خارجہ نے بھی پاکستانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے ثالث ممالک میں شامل ہے، اور پاکستانی وفد مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے برگن اسٹاک (Burgenstock) جا رہا ہے۔
We welcome the arrival of the Pakistani delegation in #Switzerland.
As one of the mediators of the MoU signed between the #UnitedStates and #Iran, the Pakistani delegation is on its way to the Bürgenstock for the next phase of discussions. pic.twitter.com/BU7XoBmrnu
— Swiss MFA (@SwissMFA) June 21, 2026
امریکی اور ایرانی وفود بھی مذاکرات میں شریک
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اتوار کو سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، جبکہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اتوار کو شروع ہونے کی توقع ہے۔ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مذاکرات جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری آ رہی ہے اور کشیدگی بتدریج کم ہو رہی ہے۔
محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں ایرانی وفد کی قیادت
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ہفتہ کو زیورخ پہنچا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مذاکراتی ٹیم کو ’’میناب 168‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ایرانی حکام کے مطابق ایک تاریخی واقعے کے متاثرین کی یاد میں رکھا گیا ہے۔ ایرانی وفد تہران سے اس اعلان کے فوراً بعد روانہ ہوا تھا جب ایرانی مسلح افواج نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
قطر بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ قطر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔
14 نکاتی مفاہمتی یادداشت
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ بدھ کو ورچوئل طور پر 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…
پولیس کے مطابق ملن پردھان کو پرانے مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔…
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…