بین الاقوامی

Nepal Border Trade Ban: نیپال حکومت کی نئی پابندیاں، بھارت سے سستے سامان کی خرید و فروخت پر لگائی پابندی، سرحدی تجارت متاثر

نیپال کی نئی بالین حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت کے ساتھ سرحدی تجارت پر سختی دکھانا شروع کر دی ہے، جس کے تحت بھارت سے کم قیمت پر خریدے گئے متعدد اشیائے صرف کی نیپال میں فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان روایتی تجارتی روابط کو متاثر کیا ہے اور سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔ اس سلسلے میں والمیکی نگر کے قریب گنڈک بیراج کے 36 نمبر گیٹ پر ایک نوٹس بھی چسپاں کیا گیا ہے، جس میں اس پابندی کی تفصیل درج ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی منافع خوری کو روکنا اور مقامی مارکیٹ کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے نیپال کے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد کے باعث نیپالی شہری برسوں سے بھارت سے سستے داموں میں سامان خرید کر اپنے ملک میں فروخت کرتے رہے ہیں، جس سے انہیں روزگار اور منافع حاصل ہوتا تھا۔ نئے قوانین کے مطابق نیپالی شہری اب بھارتی بازاروں سے 100 روپے سے زائد مالیت کا سامان بغیر ڈیوٹی کے نہیں خرید سکتے۔ اس حد سے زیادہ خریداری کی صورت میں انہیں کسٹم ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سرحدی علاقوں میں تعینات نیپال پولیس اور آرمڈ پولیس فورس کو ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی اہلکار مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور مشتبہ سرگرمیوں پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ غیر قانونی تجارت کو روکا جا سکے۔ ان پابندیوں کے اثرات اب بھارت کی سرحد سے ملحق بازاروں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ والمیکی نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جہاں پہلے نیپالی خریداروں کی بڑی تعداد آتی تھی، اب وہاں رونق میں واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ نیپالی صارفین کی آمد میں کمی سے ان کے کاروبار پر براہ راست اثر پڑا ہے۔

بھارتی دکانداروں کے مطابق پہلے روزانہ بڑی تعداد میں نیپالی شہری آ کر سستا سامان خریدتے تھے، جس سے بازاروں میں چہل پہل رہتی تھی۔ اب نئی پابندیوں کے بعد نہ صرف خریدار کم ہو گئے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرحدی تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب نیپال کے اندر بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوگی اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات دونوں ممالک کی سرحدی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا مقصد مقامی کاروبار کو فروغ دینا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں غیر رسمی تجارت پر پابندی سے کئی افراد کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Rahul Gandhi Attacks on Gyanesh Kumar: ’گیانیش کمار رات کو سو نہیں پا رہے ہوں گے‘، مہاریلی میں راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر پر حملہ

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے…

2 hours ago

Amit Shah slams Congress: سکھ مخالف فسادات کی برسی پر ریلی نکالنا متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ نے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی…

2 hours ago

INDIA Bloc Rally:  ‘‘جو کافر ہیں، وہ ہر روز ڈرتے ہیں…‘‘، رام لیلا میدان سے ممتا بنرجی کا خطاب

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال ایس آئی آر سے متاثر ہونے والی ریاست…

2 hours ago