بین الاقوامی

US-Iran Talks: جے ڈی وینس مذاکرات کے دوسرے دور کی قیادت کے لیے پیر کو پہنچیں گے پاکستان، سیزفائر ختم ہونے سے قبل اسلام آباد میں فیصلہ کن بات چیت

واشنگٹن: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پیر کی شام اسلام آباد پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ سی این این کے مطابق، اس وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدارتی مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب، ماحول کشیدہ

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 8 اپریل کو طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ حالیہ دنوں میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سخت وارننگ کے بعد مذاکرات کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ امریکی وفد کا مقصد پہلے مرحلے میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے، جہاں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی حیثیت اہم تنازع کے نکات بنے ہوئے ہیں۔

ایران کی شرط—بحری ناکہ بندی ختم کیے بغیر مذاکرات نہیں

سی این این کے مطابق ایرانی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ منگل کو ایک وفد مذاکرات کے لیے پہنچ سکتا ہے، تاہم تہران میں سخت گیر حلقوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوگی۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، موجودہ حالات میں مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہے۔

ٹرمپ کی دھمکیاں—’’معاہدہ نہ ہوا تو انفراسٹرکچر تباہ کر دیں گے‘‘

اتوار کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندرونی اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں “اعتدال پسندوں” اور “انتہاپسندوں” کے درمیان کشمکش جاری ہے، جو مذاکرات کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو اس کے پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق، “اگر معاہدہ نہیں ہوا تو پورا ملک تباہ ہو سکتا ہے۔” ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ تیل بردار جہاز متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔

دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔ دنیا کی نظریں اب اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ خطہ امن کی طرف بڑھے گا یا ایک بڑے تصادم کی جانب۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Virat Kohli Test Retirement: وراٹ کو ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا گیا، اجیت اگرکر پر سنگین الزامات

گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…

42 minutes ago

CJP Protest Again: سی جے پی پھر کرے گی احتجاج؟ آشوتوش رنکا کا اعلان، بولے- دہلی پولیس کے پاس 24 گھنٹے کا وقت

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے…

1 hour ago