بین الاقوامی

Iran Response Donald Trump: ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’ایک ہی وار‘‘ والے بیان پر ایران کا سخت ردعمل، کہا-’’ایران کے غم کو نہیں سمجھ سکتا امریکہ، کیونکہ اس کے پاس نہ تہذیب ہے نہ تاریخ اور نہ ہی عزت‘‘

ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شریک اعلیٰ قیادت کو ’’ایک ہی وار‘‘ میں ختم کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آرمینیا میں ایران کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکہ اور صدر ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے 4 جولائی کو اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منائی ہے، وہ علی خامنہ ای کے انتقال پر ایرانی عوام کے غم کی شدت کو کبھی نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ اس کے پاس ’’نہ تہذیب ہے، نہ تاریخ اور نہ ہی عزت۔‘‘ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ’’لوگوں کو قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن نظریات کو نہیں۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کیا، مگر حقیقت میں آپ نے خوشبو کی ایک شیشی توڑی ہے، جس کی مہک ہر طرف پھیل گئی ہے۔‘‘ بیان میں خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک لاکھوں افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عوامی شرکت ان کے نظریات سے وابستگی کا ثبوت ہے۔

ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟

ایرانی ردعمل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے Axios سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں حیرت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ایرانی علی خامنہ ای کے جنازے میں شریک ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا ’’میرا خیال تھا کہ لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے تھے۔ شاید یہ آنسو بھی جعلی ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو جنازے میں موجود ایران کی پوری اعلیٰ قیادت کو “ایک ہی وار” میں ختم کر سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں کیا جائے گا تاکہ تہران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رہے۔

علی خامنہ ای آخری رسومات جاری

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔ اس سے قبل تہران، قم، نجف اور کربلا میں مختلف مذہبی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

سوگ کی تقریبات کی سیاسی اہمیت

ایران میں منعقد ہونے والی یہ وسیع سوگوار تقریبات صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔ حکام کے مطابق ان کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قومی اتحاد اور استقامت کا اظہار کرنا ہے۔ تقریبات کے دوران ہزاروں افراد نوحہ خوانی، سینہ زنی اور مذہبی شعار کے ذریعے شیعہ روایات کے مطابق اپنے غم کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی پرچم اور سیاہ علم اس موقع کی مذہبی اور سیاسی اہمیت کو نمایاں کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

7 hours ago