مکہ مکرمہ : دنیا کی عظیم ترین روحانی عبادات میں شمار ہونے والے حج 2026 کا باقاعدہ آغاز 8 ذوالحجہ سے ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں اس وقت روح پرور مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں لاکھوں عازمینِ حج سفید احرام میں ملبوس اللہ کے حضور حاضر ہیں۔ سوشل میڈیا پر حج کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جن میں کہیں بزرگ زائرین آبدیدہ نظر آتے ہیں تو کہیں والدین اپنے بچوں کے ساتھ دعاؤں میں مشغول دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق 8 ذوالحجہ کو حج کا پہلا دن مانا جاتا ہے جسے ’یومِ ترویہ‘ کہا جاتا ہے۔ اسی دن حجاج کرام مکہ مکرمہ سے تقریباً 8 کلومیٹر دور واقع منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ اس سال شدید گرمی اور 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجہ حرارت کے باوجود لاکھوں افراد عقیدت اور محبت کے ساتھ اس مقدس سفر میں شریک ہوئے۔
حج صرف عبادت نہیں، روحانی انقلاب بھی
اسلام میں حج کو بنیادی ارکان میں شامل کیا گیا ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض قرار دیا گیا ہے۔ لیکن حج صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انسان کی روح، سوچ اور زندگی بدل دینے والا تجربہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ حج کا سب سے بڑا پیغام مساوات اور انسانیت ہے۔ یہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ بادشاہ نہ مزدور۔ ہر شخص ایک ہی سفید احرام میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج کو دنیا کا سب سے بڑا روحانی اجتماع بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی عقائد کے مطابق خلوصِ نیت سے ادا کیا گیا حج انسان کو گناہوں سے اس طرح پاک کر دیتا ہے جیسے وہ نومولود بچہ ہو۔ اسی جذبے کے تحت دنیا بھر کے مسلمان برسوں پیسہ جمع کر کے اس سفر کا خواب پورا کرتے ہیں۔
منیٰ میں عبادت، دعا اور خود احتسابی
حج کے پہلے دن حجاج کرام منیٰ پہنچ کر پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں، قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگتے ہیں۔ منیٰ کو ’خیموں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں لاکھوں سفید خیمے نصب کیے جاتے ہیں جو دور سے سفید سمندر کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ علما کے مطابق یہ دن انسان کو دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر خود احتسابی اور روحانی سکون حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد
حج کی تمام رسومات حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانیوں اور صبر کی یاد دلاتی ہیں۔ حج کا ہر مرحلہ اللہ پر کامل بھروسے، ایثار اور اطاعت کا درس دیتا ہے۔ منیٰ کے بعد 9 ذوالحجہ کو حجاج میدانِ عرفات پہنچیں گے، جسے حج کا سب سے اہم رکن تصور کیا جاتا ہے۔ اس دن لاکھوں مسلمان ایک ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے ہیں۔ بعد ازاں مزدلفہ میں قیام اور پھر رمی الجمرات کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
شدید گرمی کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
حج 2026 اس بار شدید گرمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سعودی حکام نے عازمین کی سہولت اور حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی کراؤڈ مینجمنٹ سسٹم، اسمارٹ کیمرے، خصوصی میڈیکل کیمپ، ٹھنڈے پانی اور ایمرجنسی سروسز کا وسیع انتظام کیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سالانہ اجتماعات میں شامل حج کے دوران لاکھوں افراد کی حفاظت اور صحت کا انتظام ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس سال جدید ٹیکنالوجی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
ہندوستان سے بھی ہزاروں عازمین شریک
بھارت سے بھی ہزاروں عازمین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ دہلی، ممبئی، لکھنؤ، حیدرآباد اور سری نگر سمیت مختلف شہروں سے خصوصی حج پروازیں چلائی گئیں۔ کئی ہندوستانی عازمین نے اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک بزرگ بھارتی جوڑے کی تصویر بھی وائرل ہو رہی ہے جنہوں نے بچوں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد برسوں کی بچت سے پہلی بار حج کا سفر اختیار کیا۔
حج کا اصل پیغام
آج مکہ مکرمہ میں لاکھوں انسان موجود ہیں، لیکن وہاں کسی کی پہچان دولت، لباس یا عہدے سے نہیں بلکہ بندگی اور عاجزی سے ہو رہی ہے۔ شاید یہی حج کا سب سے بڑا پیغام بھی ہے — انسانیت، مساوات، صبر، قربانی اور اپنے رب کے سامنے مکمل سپردگی۔
بھارت ایکسپریس۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…