ترواننت پورم: کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما پنارائی وجین بدھ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانچ کے دائرے میں آ گئے۔ مرکزی ایجنسی کے افسران نے ترواننت پورم میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کارروائی کی۔ یہ کارروائی سی ایم آر ایل-ایکسالوجک ماہانہ ادائیگی معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔
ریاست بھر میں 10 مقامات پر چھاپے
ای ڈی ذرائع کے مطابق اس وقت ریاست میں تقریباً 10 مقامات پر بیک وقت تلاشی مہم جاری ہے۔ اس معاملے میں ای ڈی پہلے ہی پنارائی وجین کی بیٹی ویینا وجین کا بیان درج کر چکی ہے، جن کی آئی ٹی کمپنی ’ایکسالوجک سلوشنز‘ اس تنازع کے مرکز میں ہے۔ اگرچہ ابھی تک پنارائی وجین سے باضابطہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی، تاہم اشارے مل رہے ہیں کہ جانچ آگے بڑھنے پر ایجنسی ان کا بیان بھی ریکارڈ کر سکتی ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کارروائی
یہ کارروائی بدھ کی صبح تقریباً 6 بجے شروع ہوئی۔ اس سے ایک روز قبل کیرالہ ہائی کورٹ نے ای ڈی کو سی ایم آر ایل اور ایکسالوجک کے درمیان مبینہ مالی لین دین کی تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ ای ڈی کی ٹیموں نے ترواننت پورم کے بیکری جنکشن کے قریب واقع پنارائی وجین کے کرائے کے مکان سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے، جہاں ویینا وجین بھی رہتی ہیں۔
مالی دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کی جانچ
سی ایم آر ایل کے دفاتر اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں سے منسلک مقامات کی بھی تلاشی لی گئی۔ ذرائع کے مطابق جانچ کار ڈیجیٹل آلات، مالیاتی دستاویزات اور مبینہ ماہانہ ادائیگیوں سے متعلق لین دین کے ریکارڈ کی جانچ کر رہے ہیں۔ ای ڈی کی ایک ٹیم نے بیپور سے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رکن اسمبلی پی اے محمد ریاس کے گھر بھی پہنچ کر پوچھ گچھ کی۔ وہ ویینا وجین کے شوہر ہیں۔
بغیر خدمات کے رقم لینے کا الزام
ای ڈی کی جانچ ان الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایکسالوجک سلوشنز کو کان کنی کمپنی سی ایم آر ایل سے بغیر کسی جائز خدمات کے بھاری رقم موصول ہوئی۔ اس سے قبل سنگین دھوکہ دہی جانچ دفتر (SFIO) کی رپورٹ اور محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی میں بھی مشتبہ مالی لین دین کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، جنہیں ’ماہانہ ریٹینر‘ قرار دیا گیا۔
ہائی کورٹ نے عرضیاں مسترد کیں
منگل کے روز کیرالہ ہائی کورٹ نے سی ایم آر ایل اور اس کے عہدیداروں کی ان عرضیوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں ای ڈی کی تحقیقات منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ پہلی نظر میں منی لانڈرنگ کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور ایجنسی کی تحقیقات میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ اسی فیصلے کے بعد بدھ کی چھاپہ مار کارروائیوں اور پوچھ گچھ کی راہ ہموار ہوئی۔
سیاسی ماحول گرم
حالیہ برسوں میں کسی سینئر سی پی آئی (ایم) لیڈر کے خلاف یہ سب سے بڑی تحقیقات میں شمار کی جا رہی ہے۔ بائیں بازو کا محاذ مسلسل اس معاملے کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیتا رہا ہے، تاہم سابق وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ای ڈی کے چھاپے کے بعد کیرالہ کی سیاست میں ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے سے وابستہ کئی اہم شخصیات کو مزید سمن جاری کیے جا سکتے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…
بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…
مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…