موغادیشو: صومالیہ کی قومی فوج اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں نے جنوبی صومالیہ کے مڈل شبیلے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے الشباب کے 30 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ حکام نے ہفتے کے روز اس کی تصدیق کی۔
مشترکہ کارروائی میں بڑا نقصان
وزارتِ دفاع کے مطابق اس آپریشن کے دوران جنگجوؤں کی دو گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر ضروری سامان بھی برآمد کرکے تباہ کیا گیا، جسے حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تربیتی مراکز اور ٹھکانوں پر نشانہ
یہ فوجی کارروائی منگل اور بدھ کے روز انجام دی گئی، جس میں خاص طور پر الشباب کے ان ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگجو جمع ہوتے اور عسکری تربیت حاصل کرتے تھے۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ جن مقامات پر کارروائی کی گئی وہاں الشباب اپنے عسکری سازوسامان اور دیگر اہم سامان کا ذخیرہ رکھتا تھا۔
بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ
وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صومالیہ کا ساتھ دینے والے بین الاقوامی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں۔ ان کے مسلسل تعاون کی بدولت ان کارروائیوں کو کامیابی سے مکمل کرنا ممکن ہوا۔‘‘
اس کارروائی پر الشباب کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ آپریشن ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صومالیہ کی خصوصی فوجی یونٹوں اور ان کے بین الاقوامی شراکت داروں نے شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی بڑی کارروائی
گزشتہ ماہ بھی صومالیہ کی قومی فوج نے جنوب مغربی ریاست کے شہر بیدوا کے مضافات میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران الشباب کے 50 شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس کارروائی میں شدت پسندوں کی کئی جنگی گاڑیاں، اسلحے کے ذخائر اور دیگر عسکری سازوسامان بھی تباہ کر دیا گیا تھا۔
سابق لیڈر کے حامیوں پر سنگین الزام
وزارتِ دفاع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جنوب مغربی ریاست کے سابق لیڈر عبدالعزیز حسن محمد کے حامی مسلح گروہ براہِ راست الشباب کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم عبدالعزیز حسن محمد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا، ’’حکومت واضح کرنا چاہتی ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو سیاسی مقاصد کے لیے مسلح جتھوں کے استعمال یا ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جو بھی شدت پسندوں کی حمایت کرے گا یا کسی بھی صورت میں ان کی مدد کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘‘
الشباب کا جوابی دعویٰ
دوسری جانب الشباب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صبح کے وقت کیے گئے ایک گھات لگا کر حملے میں صومالیہ کی قومی فوج کے دو سینئر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ فوج کے پسپا ہونے کے دوران چار فوجی نقل و حمل کی گاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا۔
بھارت ایکسپریس۔
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…