بین الاقوامی

Israel Politics: اسرائیل میں اقتدار کی تبدیلی کی تیاری! نیتن یاہو کو کرسی سے ہٹانے کے لیے گادی آئزن کوٹ کو ملا پہلا موقع، 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنا بڑا چیلنج

اسرائیل کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت پر خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کو نئی اتحادی حکومت بنانے کا پہلا موقع دیا ہے۔ آئزن کوٹ اب نیتن یاہو کو وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تاہم، ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنا ہے۔ صدر نے انہیں حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت دیا ہے۔ اگر اس مدت میں کامیابی نہیں ملتی تو انہیں مزید 14 دن کی مہلت بھی دی جا سکتی ہے۔

تین سال سے جاری جنگ نے بدل دی اسرائیل کی سیاست

اسرائیل کے موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کا ذکر ضروری ہے۔ اس حملے کے بعد غزہ سمیت کئی علاقوں میں جنگ شروع ہوئی، جس کے اثرات گزشتہ تین برس سے ملک کی سیاست اور عام زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ مسلسل جنگ اور سلامتی سے متعلق مسائل نے حکومت کے سامنے کئی چیلنج کھڑے کیے ہیں۔اسی دوران صدر ہرزوگ نے اس ہفتے اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران اسرائیل کی بیشتر بڑی جماعتوں نے آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کی حمایت کی۔ اس کے بعد صدر نے انہیں حکومت سازی کا عمل آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

عرب جماعتوں کی اہمیت میں اضافہ

گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں بنجامن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کو بڑا جھٹکا لگا۔ ان کا اتحاد پارلیمنٹ میں اپنی سابقہ اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو بھی تنہا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں نہیں مل سکیں۔ایسے میں عرب سیاسی جماعتوں کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ ان جماعتوں نے انتخابات میں تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سیاسی اصطلاح میں ایسی جماعتوں کو ’کنگ میکر‘ کہا جاتا ہے۔تاہم، عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانا آئزن کوٹ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اسرائیل کی تاریخ میں اب تک صرف ایک مرتبہ کسی عرب جماعت نے باضابطہ طور پر اتحادی حکومت میں حصہ لیا ہے۔ غزہ میں تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے دوران ایسا اتحاد سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ بن سکتا ہے۔

61 نشستوں کا ہندسہ حاصل کرنا بڑا چیلنج

اسرائیل کی پارلیمنٹ کو کنیسٹ کہا جاتا ہے، جس میں مجموعی طور پر 120 ارکان ہوتے ہیں۔ کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔فی الحال آئزن کوٹ کے نیتن یاہو مخالف اتحاد کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ ان میں ان کی اپنی جماعت یاشر کی 21 نشستیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹوگیدر پارٹی کے پاس 12، ڈیموکریٹس کے پاس 8 اور یسرائیل بیتینو کے پاس 7 نشستیں ہیں۔اگر جوائنٹ لسٹ اور رعام جیسی دونوں عرب جماعتوں کی 19 نشستیں بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائیں تو مجموعی تعداد 67 تک پہنچ سکتی ہے۔ بظاہر یہ تعداد اکثریت کے لیے کافی ہے، لیکن اصل مسئلہ ان جماعتوں کے الگ الگ نظریات ہیں۔ نیتن یاہو کی مخالفت وہ بنیادی وجہ ہے جو ان تمام جماعتوں کو ایک ساتھ لا سکتی ہے، لیکن کئی دیگر معاملات پر ان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

نیتن یاہو کی عرب جماعتوں کو اتحاد سے دور رکھنے کی کوشش

دوسری جانب بنجامن نیتن یاہو بھی اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے آئزن کوٹ اور عرب سیاسی جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد کو روکنے کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔نیتن یاہو نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے عرب جماعتوں پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی لگائے۔ صدر ہرزوگ کے اعلان سے کچھ دیر پہلے انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی ایسی حکومت کی تشکیل پر سوال اٹھایا جس میں، ان کے بقول، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ نیتن یاہو اس سے پہلے بھی عرب جماعتوں کے خلاف اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں۔

حماس کے معاملے پر آئزن کوٹ نے رکھی اتحاد کی شرط

نیتن یاہو اور ان کے حامی مسلسل عرب جماعتوں کو اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، آئزن کوٹ کا موقف اس معاملے میں قدرے مختلف ہے۔ انہوں نے کچھ شرائط کے ساتھ عرب جماعتوں کو ساتھ لے کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ان کی اہم شرط یہ ہے کہ عرب جماعتیں حماس کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کریں اور اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ ایسے میں آئزن کوٹ اور نیتن یاہو، دونوں کے سامنے بڑی یہودی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر وسیع قومی اتحاد کی حکومت بنانے کا متبادل بھی موجود ہے۔ تاہم، دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہیں۔

مذہبی جماعتوں اور فوجی خدمت کا معاملہ بھی رکاوٹ

نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا معاملہ بھی ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں کا خاصا اثر رہا ہے۔ یہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ الٹرا آرتھوڈوکس برادری کے مردوں کو لازمی فوجی خدمت سے چھوٹ ملتی رہے۔ اس معاملے پر اسرائیل میں طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران سلامتی کے انتظامات میں ہونے والی ناکامی کی باضابطہ تحقیقات بھی ایک اہم سیاسی مسئلہ ہے۔ نیتن یاہو اس معاملے میں سرکاری تحقیقات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ آئزن کوٹ کے لیے ان دونوں معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے حکومت بنانے کا متبادل

اگر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ لانے میں کامیابی نہیں ملتی تو آئزن کوٹ کے سامنے اقلیتی حکومت بنانے کا راستہ بھی موجود ہے۔ اس صورت میں عرب جماعتیں حکومت میں براہ راست شامل ہوئے بغیر باہر سے حمایت دے سکتی ہیں۔ اس طرح آئزن کوٹ کو پارلیمنٹ میں ضروری حمایت مل سکتی ہے اور نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔تاہم، ان کے اپنے اتحاد کے کئی رہنماؤں نے اس انتظام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لیے یہ متبادل بھی فی الحال مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

نیتن یاہو کی ویڈیو پر آئزن کوٹ کی جماعت کا جواب

اس سیاسی کشمکش کے درمیان آئزن کوٹ کی جماعت یاشر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے نیتن یاہو کی ویڈیو پر سخت تنقید کی ہے۔ جماعت نے لیکوڈ کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کریں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ اس بیان میں نیتن یاہو کے ساتھ موجود انتہائی دائیں بازو اور مذہبی قوم پرست جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاشر نے واضح کیا ہے کہ آئزن کوٹ صرف انہی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کام کریں گے جو ان کے سیاسی اصولوں اور نظریات سے اتفاق رکھتے ہوں۔

اگلے 28 دن اسرائیلی سیاست کے لیے اہم

اسرائیل میں اقتدار کی تبدیلی کے امکانات ضرور پیدا ہوئے ہیں، لیکن حکومت بنانا آئزن کوٹ کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ ان کے پاس 28 دن ہیں کہ وہ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں اور 61 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کریں۔ ضرورت پڑنے پر انہیں مزید 14 دن بھی مل سکتے ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو بھی اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئزن کوٹ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کر پاتے ہیں یا نیتن یاہو نئے سیاسی اتحاد کے ذریعے اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Under-19 Asia Cup: انڈر 19 ایشیا کپ: بھارت کے خلاف حمزہ کی ناقابل شکست سنچری، پاکستان نے 3 وکٹوں سے درج کی جیت

پاکستان نے حمزہ ظہور کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت بھارت کو انڈر 19 ایشیا…

22 minutes ago

Babri Masjid Demolition Case: بابری مسجد کے معاملے پر صرف سونیا نہیں، پورا ملک رویا تھا، آئین کے لیے سیاہ دن تھا: یوسف عباس

مولانا یوسف عباس نے کہا، ’’جب بابری مسجد کو گرایا گیا تھا تو صرف سونیا…

42 minutes ago

The fight Against Naxalism Is Not Just PM Modi’s Achievement: نکسل واد کے خلاف جنگ صرف وزیر اعظم مودی کی کامیابی نہیں، تمام حکومتوں کا تعاون شامل ہے: ادت راج

کانگریس لیڈر اور ترجمان ادت راج نے نکسل واد، بابری مسجد کے انہدام، سونیا گاندھی…

1 hour ago