قومی

Gold Price Drop Global vs India: عالمی بازار میں سونے میں آئی زبردست گراوٹ، بھارت میں ٹیکس کی مار نے جیب پر ڈالا بھاری بوجھ! جانئے قیمتوں میں فرق کی پوری کہانی

دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے، لیکن بھارت میں اس کا اثر نسبتاً کم رہا۔ عالمی بازار میں سونا 24 فیصد تک سستا ہوا، جبکہ بھارتی بازار میں اس کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد کی کمی درج کی گئی۔ آخر ان دونوں بازاروں میں 4 فیصد کا یہ فرق کیوں ہے؟ اس کے پیچھے بنیادی طور پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری اہم وجوہات ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں فرق: عالمی بازار اور بھارت

عالمی بازار میں سونا اپنی ریکارڈ قیمت سے کافی نیچے آ چکا ہے۔ جمعہ کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,068.71 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔ یہ 29 جنوری 2026 کو درج کی گئی 5,379 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ قیمت سے تقریباً 24 فیصد کم ہے۔ قیمتوں میں اس بڑی گراوٹ کے بعد سونا ’بیئر مارکیٹ‘ میں داخل ہو چکا ہے۔

بھارت میں سونے کی قیمتوں کی صورت حال

دوسری جانب آل انڈیا صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، دہلی میں دھن تیرس کے دن خالص سونا (99.9 فیصد) 1,46,300 روپے فی 10 گرام پر بند ہوا۔ 29 جنوری کو اس کی قیمت 1,83,000 روپے فی 10 گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس حساب سے بھارتی بازار میں سونے کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔

درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کا اثر

بھارت اپنی ضرورت کا بیشتر سونا دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے یہاں سونے کی قیمت صرف بین الاقوامی بازار کے اتار چڑھاؤ سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس پر عائد ٹیکس بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنوری میں جب سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر تھیں، اس وقت درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد تھی۔ تاہم حکومت نے 13 مئی کو اس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے مؤثر طور پر 15 فیصد کر دیا۔ اس میں 10 فیصد بنیادی کسٹم ڈیوٹی اور 5 فیصد زرعی بنیادی ڈھانچے کا سیس شامل ہے۔درآمدی ڈیوٹی میں 9 فیصد کے اس اضافے نے عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کا اثر بھارتی بازار میں کم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر قیمتیں زیادہ گرنے کے باوجود بھارت میں اتنی بڑی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری

سونے کی بین الاقوامی قیمتوں کا تعین ڈالر میں ہوتا ہے۔ ایسے میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے کا براہ راست اثر بھارت میں سونے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔29 جنوری کو ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تقریباً 92 کی سطح پر تھا، جو اس کی اب تک کی کم ترین سطح کے آس پاس تھا۔ روپے کی کمزوری کے باعث بھارتی درآمد کنندگان کو بیرون ملک سے سونا خریدنے کے لیے زیادہ روپے خرچ کرنے پڑے۔ اس اضافی لاگت نے بھی ملکی بازار میں سونے کی قیمتوں کو عالمی بازار کی طرح تیزی سے گرنے سے روک دیا۔اس طرح عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں 24 فیصد اور بھارت میں تقریباً 20 فیصد کی کمی کے پیچھے درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ اور روپے کی کمزوری دو اہم عوامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi slams Congress: کانگریس حکومتوں نے نکسلزم کو لاعلاج مرض سمجھ کر نظر انداز کیا: وزیراعظم مودی

وزیراعظم بستر میں سلامتی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے…

1 hour ago

Amit Shah Hails PM Modi Bastar Visit: ’بستر مکمل طور پر آزاد ہوگیا…‘ وزیر اعظم مودی کے دورے پر امت شاہ نے کیا کچھ کہا؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بستر دورے کو تاریخی…

1 hour ago