بین الاقوامی

Israel strike Natanz nuclear facility: ایران کے نطنز جوہری مرکز پر امریکی و اسرائیلی حملہ، تابکاری اخراج ہونے کی کوئی اطلاع نہیں، عالمی تشویش میں اضافہ

تہران: ایرانی سرکاری میڈیا تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ہفتہ کی صبح ایران کے اہم یورینیم افزودگی مرکز پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو ایران کے سب سے اہم جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور قریبی رہائشیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ نطنز کی یہ تنصیب پہلے بھی کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ جون 2025 میں ہونے والی اسرائیل-ایران 12 روزہ جنگ کے دوران بھی یہ ایک بڑا ہدف تھی، جب اسرائیل نے ایران کے فوجی اور جوہری ڈھانچے پر متعدد حملے کیے تھے، بعد ازاں امریکہ بھی اسرائیل کی حمایت میں اس تنازع میں شامل ہوا تھا۔ حالیہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اہم فوجی و اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کی لاعلمی

امریکی میڈیا ادارے سی این این کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج نے اس حملے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔  فوج کا کہنا ہے کہ انہیں اس مخصوص تنصیب پر کسی کارروائی کی معلومات نہیں ہیں۔ سی این این کے مطابق امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے آغاز کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نطنز مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو حاصل کرنے کے مختلف منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی بھی ممکنہ کارروائی کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم خفیہ امریکی فوجی یونٹ ’’جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ‘‘ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب ہے۔ اس کا بڑا حصہ ان جوہری تنصیبات کے نیچے محفوظ ہے جنہیں گزشتہ سال امریکہ نے ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت نشانہ بنایا تھا۔

بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

12 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

51 minutes ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

11 hours ago