قومی

Income Tax: یکم اپریل سے نیا انکم ٹیکس نظام نافذ، ٹیکس کے عمل کو آسان، شفاف اور تنازعات سے پاک بنانا نئے نظام کا مقصد

نئی دہلی: مرکزی براہ راست ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی) نے انکم ٹیکس قوانین 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ ہوں گے۔ یہ نیا نظام انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی جگہ لے گا، جو گزشتہ 64 برسوں سے نافذ تھا۔ حکومت کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد ٹیکس کے عمل کو آسان، شفاف اور تنازعات سے پاک بنانا ہے، اگرچہ ٹیکس شرحوں یا سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں

نئے قوانین کے تحت اب ’’فنانشل ایئر‘‘ اور ’’اسیسمنٹ ایئر‘‘ کی جگہ صرف ایک اصطلاح ’’ٹیکس ایئر‘‘ استعمال ہوگی، جس سے عام لوگوں کے لیے عمل آسان ہو جائے گا۔ ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخیں بھی طے کر دی گئی ہیں۔ عام افراد کے لیے 31 جولائی، کاروبار اور پیشہ ور افراد کے لیے 31 اگست اور آڈٹ والے معاملات کے لیے 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ خصوصی حالات میں یہ مدت 30 نومبر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس ایئر ختم ہونے کے 12 ماہ کے اندر ترمیم شدہ ریٹرن جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے راحت

ہاؤس رینٹ الاؤنس (ایچ آر اے) کے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب ملازمین کو رعایت حاصل کرنے کے لیے مکان مالک اور کرایہ دار کے تعلق کی تفصیل دینا لازمی ہوگا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ممبئی، دہلی، کولکاتا، چنئی کے ساتھ حیدرآباد، پونے، احمد آباد اور بنگلورو میں رہنے والے افراد کو تنخواہ کا 50 فیصد تک ایچ آر اے چھوٹ ملے گی، جبکہ دیگر شہروں میں یہ حد 40 فیصد رہے گی۔ اگر کوئی شخص سالانہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ کرایہ دیتا ہے تو اسے مالک مکان کا پین نمبر دینا ضروری ہوگا۔ نئے قانون کے تحت 10 کروڑ روپے تک کے ٹرن اوور والے کاروباروں کو کچھ شرائط کے ساتھ تفصیلی کھاتہ داری اور آڈٹ سے چھوٹ دی جائے گی، جو چھوٹے تاجروں کے لیے بڑی راحت ہے۔ اسی طرح کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ گھر (پرکویژٹ) کی ٹیکس ویلیو کم کر دی گئی ہے، جس سے ملازمین کو فائدہ ہوگا۔

دیگر سہولیات اور رعایتیں

کمپنی کی گاڑی کے استعمال پر ٹیکس کے نئے اصول نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرائیور فراہم کرنے کی صورت میں اضافی رقم شامل ہوگی۔ فوڈ اور مشروبات پر ٹیکس فری حد بڑھا کر 200 روپے فی میل کر دی گئی ہے، جو پہلے 50 روپے تھی۔ کمپنی کی جانب سے دیے جانے والے تحائف اور واؤچرز اب 15 ہزار روپے تک ٹیکس فری ہوں گے۔ بچوں کے تعلیمی الاؤنس پر بھی بڑی رعایت دی گئی ہے:

تعلیم کے لیے 3000 روپے ماہانہ تک چھوٹ

ہاسٹل الاؤنس کے لیے 9000 روپے ماہانہ تک رعایت

سرمایہ کاری سے متعلق وضاحت

نئے قوانین میں سرمایہ کاری کی مدت (ہولڈنگ پیریڈ) کے تعین کو بھی واضح کیا گیا ہے، خاص طور پر ان سیکیورٹیز کے لیے جو ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہیں۔ اس سے یہ طے کرنا آسان ہوگا کہ منافع قلیل مدتی ہے یا طویل مدتی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ نیا ٹیکس نظام چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے عمل کو آسان بنائے گا اور مقدمہ بازی میں کمی لائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اصلاح کا مقصد لوگوں کو الجھن سے نکال کر مکمل تعمیل (کمپلائنس) کی طرف لے جانا ہے۔ نیا انکم ٹیکس نظام ایک طرف قواعد کو سخت بناتا ہے تو دوسری جانب کئی شعبوں میں رعایت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے ٹیکس فائلنگ کا عمل آسان ہوگا، تنازعات کم ہوں گے اور لوگوں کو اپنی مالی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کرنے میں مدد ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

10 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

10 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

11 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

11 hours ago