قومی

Union Home Minister Amit Shah: سی اے پی ایف کے لیے ‘ون نیشن، ون لا’ کی تیاری، امت شاہ راجیہ سبھا میں نیا بل کریں گے پیش

نئی دہلی :مرکزی حکومت ملک کی داخلی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے مرکزی مسلح پولیس فورسز (CAPF) کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پیر کو راجیہ سبھا میں ‘مرکزی مسلح پولیس فورس (عمومی انتظام) بل 2026’ پیش کر سکتے ہیں۔فی الحال CAPF کے تحت آنے والی فورسز جیسے بارڈر سیکورٹی فورس، آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی الگ الگ قوانین کے تحت کام کرتی ہیں، جس کے باعث ترقی (پروموشن) اور سروس شرائط میں اکثر تضادات پیدا ہوتے ہیں۔ نئے بل کا بنیادی مقصد ان تمام فورسز کے لیے ایک متحدہ ضابطہ کار تیار کرنا ہے تاکہ انتظامی مشکلات اور عدالتی مقدمات میں کمی لائی جا سکے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی تقاضوں کے پیش نظر ایک مشترکہ قانون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس بل کے ذریعے نہ صرف انتظامی ہم آہنگی پیدا کی جائے گی بلکہ فورسز کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اس مجوزہ قانون کا سب سے حساس پہلو انڈین پولیس سروس (IPS) افسران کی ڈیپوٹیشن سے متعلق ہے۔ بل کے مطابق سی اے پی ایف میں انسپکٹر جنرل (IG) اور اس سے اوپر کے عہدوں پر تقرری کے لیے نئے اصول طے کیے گئے ہیں۔ تجویز ہے کہ IG رینک کے 50 فیصد اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ADG) کے کم از کم 67 فیصد عہدے ڈیپوٹیشن کے ذریعے پُر کیے جائیں۔مزید یہ کہ اسپیشل ڈی جی اور ڈائریکٹر جنرل (DG) جیسے اعلیٰ ترین عہدے مکمل طور پر ڈیپوٹیشن کے ذریعے ہی بھرے جائیں گے۔ اسے کیڈر افسران اور IPS افسران کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات کو متوازن کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ قانون سازی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے مرکز کی اس نظرثانی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس میں آئی پی ایس افسران کی ڈیپوٹیشن کم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد حکومت اب قانون کے ذریعے ایک واضح اور مستقل ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق گروپ ‘اے’ جنرل ڈیوٹی افسران کی بھرتی اور سروس شرائط کو منظم کرنے سے فورسز کے اندر کیریئر ترقی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ مختلف قوانین کی وجہ سے پیدا ہونے والی عملی رکاوٹوں کو بھی دور کیا جا سکے گا، جس سے مجموعی طور پر نظام مزید مؤثر اور شفاف بنے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

5 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

6 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago