ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے کئے گئے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے ہلاک ہونے کے بعد کئی ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں تو وہیں کئی ممالک امریکہ اوراسرائیل کے ساتھ آگئے ہیں۔ اس طرح سے دنیا دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ روس، چین اورپاکستان نے امریکہ اوراسرائیل پربڑا سوال اٹھایا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے تشویش کا اظہارکیا اوراسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا۔ کئی بڑے ممالک کی خاموشی کے درمیان روس اورچین نے ایران پرحملے سے متعلق خلیجی خطے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین نے خامنہ ای کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے کوایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قراردیا۔
ایران پرہورہے حملے کے ردعمل میں روس نے فوری طورپردشمنی ختم کرنے اورسفارت کاری کے ذریعہ مسئلے کے جلد حل کا مطالبہ کیا۔ روس نے کہا کہ تمام خلیجی ممالک کے جائز مفادات کومدنظررکھا جانا چاہئے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، “ہم خطے میں کشیدگی کوفوری طورپرکم کرنے، دشمنی کے خاتمے اورموجودہ مسائل کواقوام متحدہ کے چارٹر اورجوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکے معاہدے (این پی ٹی) کی بنیاد پرحل کرنے کے لیے سیاسی اورسفارتی عمل میں واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین اوراصولوں کی خلاف ورزی: روس
روسی صدرولادیمیرپتن نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اپنے ایرانی ہم منصب کے نام ایک پیغام میں کہا کہ یہ عمل انسانی اخلاقیات اوربین الاقوامی قوانین کے تمام اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ روس کی طرح چین نے بھی ایران پرحملے کی مذمت کی ہے۔ اتوارکے روزایک مختصربیان میں چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ “ایران کے سپریم لیڈرپرحملہ اوران کا قتل ایران کی خودمختاری اورسلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ حملہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے مقاصد اوراصولوں اوربین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت اورمذمت کرتا ہے۔”
مشکل وقت میں ہم پڑوسی ایران کے ساتھ: پاکستان
دوسری طرف، ایران پرہوئے حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے پرپاکستان کے صدرآصف علی زرداری نے بھی افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ایرانی حکومت اوروہاں کی عوام کے تئیں تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”غم کی اس مشکل گھڑی میں پاکستان اپنے پڑوسی ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے نقصان میں ان کے ساتھ ہے۔“ وہیں پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، ”پاکستان کی حکومت اورلوگ مایوسی کی اس گھڑی میں ایران کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ہزاایمیننس آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر اپنی گہری تعزیت پیش کرتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پربھی تشویش کا اظہارکیا ہے۔ یہ ایک پرانی روایت ہے کہ ملک/حکومت کے سربراہان کونشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ ہم مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ اللہ رب العالمین ایرانی لوگوں کواس کبھی نہ بھرنے والے نقصان کو سہنے کی صبراورطاقت دے۔“
بھارت ایکسپریس اردو-
ٹرسٹ کے سکریٹری عاصم رضا کے مطابق ایوارڈ آئندہ یکم نومبر کو دوپہر ڈھائی بجے…
اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…
سفارت خانے کے مطابق، اس کے افسران نے ان اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں…
دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…
ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…
صدر دروپدی مرمو نے چھ ریاستوں میں نئے گورنروں کی تقرری کا اعلان کیا، راجندر…