خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی اور محفوظ مقام پر اترنے میں کامیاب رہا۔ اس واقعے نے پہلے ہی کشیدہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ معمول کے فوجی آپریشن کے تحت پرواز کر رہا تھا۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا یا کسی بیرونی حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی جبکہ ریسکیو ٹیموں نے پائلٹ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حادثے کے بعد سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ طیارے کو ایرانی ساختہ خودکش ڈرون شہید-136 نے نشانہ بنایا۔ یہ ڈرون حالیہ مہینوں میں خطے میں ہونے والے کئی حملوں کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ تاہم امریکی فوجی کمان ریاستہائے متحدہ کی مرکزی کمان اور پینٹاگن کی جانب سے اب تک اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرون حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ خلیجی خطے میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات خصوصاً علی السلم ایئر بیس اس وقت خطے میں امریکی عسکری سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ ممکنہ خطرات کی زد میں رہتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ”فتحِ خیبر“ کے تحت میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکی فوجی اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیا جا رہا ہے۔ خطے میں فضائی نگرانی، بحری نقل و حرکت اور دفاعی تیاریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے امریکی فوج کی جانب سے مکمل تکنیکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ طیارے کے ملبے اور فلائٹ ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ دشمن کارروائی کا نتیجہ تھا یا اندرونی فنی خرابی کا۔
ادھر خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کے بعد فضائی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی فوجی واقعے کے بڑے علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے فی الحال محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور خطے میں امریکی افواج مکمل الرٹ پر ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…