قومی

Iran-Israel-US War: مشرق وسطیٰ جنگ پر وزیر اعظم مودی نے کہا- بھارت امن اور استحکام کا حامی، عالمی برادری سے مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی برادری سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بیان کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ گفتگو میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں جمہوری ممالک کی مشترکہ آواز امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب دو مضبوط جمہوریتیں ایک ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو امن کی آواز مزید طاقتور ہو جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال بھارت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے کیونکہ خطے میں لاکھوں بھارتی شہری مقیم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت تمام ممالک کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس موقع پر بھارت اور کینیڈا کے درمیان توانائی اور جوہری تعاون کے شعبے میں اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ دونوں ممالک نے یورینیم سپلائی سے متعلق ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جبکہ سول نیوکلیئر تعاون کو فروغ دینے کے لیے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی مشترکہ ترقی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس معاہدے سے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کو تقویت ملے گی۔

اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دشمنی کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزید کشیدگی انسانی بحران کو بڑھا سکتی ہے۔ دونوں لیڈروں نے علاقائی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔ دوسری جانب مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ حکومت خلیجی ممالک میں موجود بھارتی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک بھارتی سفارتی مشنز مسلسل رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر شہریوں کے انخلا کے لیے مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔

پرہلاد جوشی نے پریشان خاندانوں کو یقین دلایا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں بھارتی شہری مشکل میں ہوں، حکومت ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے یوکرین بحران کے دوران کیے گئے انخلا آپریشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھی حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ بھارت عالمی سطح پر امن، مکالمے اور سفارتکاری کے اصولوں پر قائم رہے گا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پائیدار حل کی حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

58 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

3 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

3 hours ago