واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ آئندہ 10 سے 15 دنوں کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن تہران کو نئی جوہری ڈیل پر آمادہ کرنے کے لیے محدود فوجی حملے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر ابتدائی مرحلے میں محدود نوعیت کی عسکری کارروائی کرنا چاہتی ہے تاکہ ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور اسے امریکی شرائط کے مطابق جوہری معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد مکمل جنگ شروع کیے بغیر سیاسی اور عسکری دباؤ پیدا کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر ابتدائی حملے کی منظوری دی جاتی ہے تو ایران کے چند فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ محدود حملے کے ذریعے تہران کو پیغام دیا جائے گا کہ اگر اس نے یورینیم افزودگی ختم کرنے سے انکار کیا تو کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں شامل ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر مرحلہ وار حملوں کی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، جس میں پہلے چھوٹے حملے کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے کی کارروائی کا حکم دیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے یا پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک معاہدہ کریں گے یا کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کروائیں گے‘‘۔ بعد ازاں ایک اور تقریب میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ فیصلہ زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ صرف صدر ہی کریں گے اور تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ اسی دوران دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، جس سے طویل عسکری آپریشن کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔
امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور اس کے ساتھ موجود جنگی بحری بیڑا خطے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ دفاعی حکام کے مطابق امریکی افواج کی مکمل تعیناتی مارچ کے وسط تک متوقع ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکہ کے سابق سفیر ڈینیئل بی شاپیرو نے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل مشترکہ کارروائی کرتے ہیں تو ایران کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا تصادم جلد ختم ہونے والا یا محدود نوعیت کا نہیں ہوگا اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ادھر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی طیارہ بردار جہاز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگی بحری جہاز بلاشبہ خطرناک عسکری طاقت کی علامت ہوتے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہیں جو انہیں سمندر کی گہرائی میں بھیج سکتے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن کئی اہم معاملات پر اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ ایرانی نمائندے آئندہ ہفتوں میں مزید تجاویز کے ساتھ بات چیت آگے بڑھائیں گے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے شہری توانائی ضروریات کے تحت یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے۔ تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ یہ پروگرام مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں امریکہ کے 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیوں، بحری جھڑپوں اور علاقائی تنازعات نے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری اب آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے حتمی فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…