قومی

Horrific Road Accident: دہلی کے جنک پوری میں تیز رفتار کار کی ای رکشہ کو ٹکر، 6 سالہ بچی جاں بحق، نانی زخمی

نئی دہلی: مغربی دہلی کے علاقے جنک پوری میں پیش آئے ایک افسوسناک سڑک حادثے میں تیز رفتار کار کی ٹکر سے ای رکشہ الٹ گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار چھ سالہ بچی کی موت ہو گئی جبکہ اس کی نانی شدید زخمی ہو گئیں۔ واقعے نے ایک بار پھر دارالحکومت میں ای رکشوں کی بڑھتی تعداد اور سڑک سلامتی کے مسائل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ 17 فروری کی صبح پیش آیا جب پی سی آر کو ماتا چانن دیوی اسپتال سے اطلاع موصول ہوئی کہ سڑک حادثے میں ایک کمسن بچی اور ایک خاتون زخمی حالت میں لائے گئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔

ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ زخمی خاتون کی شناخت مرسی زیویئر (57) کے طور پر ہوئی ہے جو اپنی نواسی کے ساتھ ای رکشہ میں سفر کر رہی تھیں۔ دونوں لاج ونتی گارڈن علاقے کی رہائشی بتائی جاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق صبح تقریباً 7 بج کر 40 منٹ پر جب ای رکشہ جنک پوری فائر اسٹیشن کے قریب پہنچا تو ایک تیز رفتار کار نے اسے زور دار ٹکر مار دی جس کے باعث رکشہ بے قابو ہو کر الٹ گیا۔ حادثے کے نتیجے میں بچی اور اس کی نانی سڑک پر گر گئیں اور دونوں کو شدید چوٹیں آئیں۔ مقامی افراد کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر ماتا چانن دیوی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ان کی نازک حالت کے پیش نظر انہیں دوارکا کے ایک جدید طبی مرکز ریفر کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق دورانِ علاج بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی، جبکہ مرسی زیویئر کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو فی الحال مستحکم قرار دیا ہے۔ بچی کی موت کے بعد خاندان میں کہرام مچ گیا اور علاقے میں بھی غم و افسوس کی فضا پھیل گئی۔ واقعے کے بعد دہلی پولیس نے جنک پوری تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے حادثے میں ملوث کار کو ضبط کر لیا ہے جبکہ ملزم ڈرائیور کی شناخت سنجیو کے طور پر کی گئی ہے، جسے بدھ کے روز گرفتار کر لیا گیا۔

تحقیقات کے دوران عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق حادثے کی مکمل صورتحال جاننے کے لیے فائر اسٹیشن اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی کھنگالی جا رہی ہے تاکہ تصادم کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہلک حادثے نے دہلی میں چلنے والے ای رکشوں کی حفاظت اور ضابطوں پر عمل درآمد کے مسئلے کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت میں دو لاکھ سے زائد ای رکشے رجسٹرڈ ہیں، تاہم زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں ای رکشے بغیر مکمل رجسٹریشن یا حفاظتی معیار پر عمل کیے سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ اکثر یہ گاڑیاں گنجان آبادی والے رہائشی اور بازار علاقوں میں چلتی ہیں جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عام دیکھی جاتی ہے۔ پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ کئی مواقع پر ای رکشے اپنی مقررہ گنجائش سے زیادہ مسافروں کو بٹھاتے ہیں یا کم تربیت یافتہ ڈرائیور انہیں چلاتے ہیں، جس سے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ بچی کی ہلاکت کے معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

2 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

3 hours ago