ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے اہم معاملات پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں جنیوا اور اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں فریقین ایک صفحے پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے وائٹ ہاؤس کے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی بار ایران اور امریکہ کے درمیان کسی جامع معاہدے کے خدوخال پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے، جو خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں تین بنیادی نکات شامل ہوں گے، جن پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔ پہلا نکتہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے، جس کے تحت ایران اس بات کا اعلان کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور یورینیم کی افزودگی کا عمل بھی روک دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اپنے موجودہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو یا تو کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کے اقدامات کرے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس یورینیم کو کہاں اور کس طریقے سے تلف یا منتقل کیا جائے گا۔ امریکی قیادت کی خواہش ہے کہ ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلو افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کیا جائے۔
دوسرا اہم نکتہ اقتصادی پابندیوں سے متعلق ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ختم کرے گا اور ایران کے منجمد اثاثے بھی بحال کیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں ایران کو امدادی اور بحالی کے کاموں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ 2015 میں بھی ایک معاہدے کے تحت ایران کے لیے تقریباً 150 ارب ڈالر کی رقم بحال کرنے کی بات کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔ تیسرا نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ معاہدے کے مطابق اس راستے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور ایران اس بات کی ضمانت دے گا کہ وہ جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ دوسری جانب امریکہ بھی اس علاقے میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کرے گا، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
اگرچہ ان تین نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان دیگر 11 اہم معاملات پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ 14 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ نکات پر آئندہ 30 دنوں میں پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارہ دیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کو محدود کر دیا گیا ہے اور اب توجہ سفارتی حل پر مرکوز ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ اہم اجلاس یا تو اسلام آباد میں ہوگا یا جنیوا میں، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت شرکت کر سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…