بہار کے وزیر صحت نشانت کمار اپنے والد نتیش کمار کے ساتھأ (فائل فوٹو)
پٹنہ: بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر جمعرات کو سمراٹ کابینہ کی توسیع متوقع ہے، جس کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس موقع پر سب سے بڑی خبر یہ سامنے آئی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اور جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی صدر نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو بھی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے نشانت کمار کو وزارت قبول کرنے پر آمادہ کر لیا ہے، حالانکہ انہوں نے اس سے قبل اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نشانت کمار کی شمولیت نہ صرف جے ڈی یو کے اندرونی توازن کو مضبوط کرے گی بلکہ ریاستی سیاست میں ایک نئی سمت بھی متعین کر سکتی ہے۔ اسی پیش رفت کے باعث نشانت کمار کی مجوزہ “سدبھاؤ یاترا” کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے، جو پہلے 7 مئی سے شروع ہونے والی تھی۔ اب یہ یاترا 9 مئی سے دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کابینہ کی توسیع کی تقریب پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقد ہوگی، جہاں بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے تقریب کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کی تشکیل میں بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان “15-15 فارمولہ” نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت دونوں جماعتوں کو تقریباً برابر نمائندگی دی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے 13 جبکہ جے ڈی یو کے 12 وزراء شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں کو بھی کابینہ میں جگہ دی جا سکتی ہے، جن میں لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، جیتن رام مانجھی کی جماعت اور اپیندر کشواہا کی پارٹی شامل ہیں۔
کابینہ کی توسیع سے قبل وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے دہلی روانہ ہونے سے پہلے نتیش کمار سے ملاقات کی تھی، جس میں ممکنہ ناموں اور سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بعد ہی کابینہ کی حتمی شکل سامنے آئی ہے۔ گاندھی میدان میں ہونے والی اس تقریب کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پورے علاقے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسپیشل برانچ اور سادہ لباس میں بھی پولیس اہلکار نگرانی کریں گے۔ مرکزی ایجنسیاں بھی حساس مقامات پر نظر رکھیں گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ جدید آلات جیسے میٹل ڈیٹیکٹر اور اسکیننگ سسٹم کے ذریعے آنے والے افراد کی مکمل جانچ کی جائے گی، جبکہ ڈاگ اسکواڈ کی ٹیمیں بھی تعینات رہیں گی۔
واضح رہے کہ سمراٹ چودھری نے 15 اپریل کو بہار کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔ ان کے ساتھ دو نائب وزرائے اعلیٰ وجیندر یادو اور وجے چودھری نے بھی حلف اٹھایا تھا۔ سمراٹ چودھری ان چند لیڈروں میں شامل ہیں جو پہلے نائب وزیر اعلیٰ رہے اور بعد میں وزیر اعلیٰ بنے۔ اس سے قبل یہ اعزاز صرف کرپوری ٹھاکر کو حاصل تھا۔ سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر بھی خاصا متنوع رہا ہے۔ انہوں نے ابتدا راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ کی، بعد میں جے ڈی یو میں شامل ہوئے اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کا حصہ بن گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی قیادت میں کابینہ کی یہ توسیع ریاستی سیاست میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…