تہران: ایران کے پہلے نائب صدر محمدرضا عارف نے دنیا بھر میں جارحیت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ان تمام افراد اور رہنماؤں کو سلام پیش کرتا ہے جو انصاف اور انسانیت کے حق میں ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے انسانی مؤقف کو سراہا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں ایران کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے دفاع کو یقینی بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انصاف پر مبنی مؤقف اختیار کرے اور ان عناصر کی نشاندہی کرے جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے بھی ایک بیان میں امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مثبت اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنی بالادستی کی پالیسی ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرے تو بات چیت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ صدر نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہی کوئی پائیدار حل ممکن ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی ہوگی اور ایران کے ساتھ سنجیدہ اور منصفانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے جھکنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ بھرپور جواب دے گا، تاہم اگر بات چیت اور دلیل کی بنیاد پر پیش قدمی کی گئی تو ایران بھی اسی انداز میں جواب دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایرانی عوام کا مقروض ہے اور اسے اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایرانی قیادت کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف جہاں ایران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، وہیں دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے ہیں، بشرطیکہ عالمی طاقتیں انصاف اور برابری کے اصولوں کو تسلیم کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…