ایلام، ایران: امریکہ کی جانب سے ممکنہ فوجی حملوں کی دھمکیوں کے درمیان ایران کے شہر ایلام میں شہریوں نے پاور پلانٹس اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے انسانی زنجیر (ہیومن چین) بنا کر احتجاج کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، جو سڑکوں کے کنارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک طویل انسانی زنجیر بنائے کھڑے رہے۔ شرکاء ایرانی پرچم اور قومی رہنماؤں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور حب الوطنی کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ احتجاج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
حکومتی اپیل پر عوامی ردعمل
ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔
جاری کشیدگی کے درمیان ممتاز مذہبی رہنما آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’مقدس اور تاریخی مزاحمت‘‘ کو جاری رکھیں اور دشمنوں کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں۔ قم میں خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ مکارم شیرازی نے عوام، مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں داخلی اتحاد کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کسی بھی قسم کے اختلافی یا تقسیم پیدا کرنے والے معاملات سے گریز کیا جائے اور ملک کی قیادت کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔
افواج اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین
سینئر عالم دین نے ایرانی فوج، سکیورٹی فورسز اور بسیج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں اور ثابت قدمی ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ایمرجنسی سروسز اور عوامی رضاکار گروپوں کی خدمات کو بھی سراہا، جو مشکل حالات میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آیت اللہ نے خطے میں موجود اتحادی مزاحمتی گروپوں، خصوصاً عراق، لبنان، یمن اور شام میں سرگرم قوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیاں ’’الٰہی مدد‘‘ کا مظہر ہیں، جنہوں نے مخالفین کو حیران اور کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت ’’میدان جنگ اور سماجی سطح پر برتری‘‘ حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن دباؤ بڑھا سکتا ہے، لیکن ایرانی قوم کی استقامت آخرکار دشمنوں کی شکست کا سبب بنے گی۔
بڑھتی کشیدگی اور عالمی خدشات
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو ڈیڈ لائن دی ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو بڑے پیمانے پر بمباری کی جا سکتی ہے، جس میں بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہاں تک کہا کہ ’’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے‘‘ جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران میں انسانی زنجیروں کی یہ مہم نہ صرف عوامی مزاحمت کی علامت ہے بلکہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کا بھی واضح اشارہ ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی حل نکلتا ہے یا صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…